Urdu book · صوم رمضان

دعا اور روزہ

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

امام احمد اور امام الترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرض علی ربی لیجعل لی بطحاء مکۃ ذھبا۔ فقلت لا یا رب۔ ولکن اشبع یوما و اجوع یوما۔ فاذا جعت تضرعت الیک و ذکرتک و اذا شبعت حمدتک و شکرتک (مشکاۃ المصابیح ۱۴۳۳/۳) میرے رب نے مجھ کو یہ پیش کش کی کہ میرے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری طرف تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں اور جب میں کھاؤں تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر کروں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ ضروری ہے کہ آدمی کے اوپر مختلف حالات گزریں تاکہ اس کے دوران آدمی کے اندر مطلوب کیفیات پیدا ہوں۔ حالات نہیں تو کیفیات بھی نہیں۔ آدمی کو جب بھوک پیاس ستائے تو اس کو اپنے عجز کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے اندر اللہ کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر جب وہ پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اس کی روح کو سیری حاصل ہوتی ہے۔ اس کے دل سے شکر اور حمد کے جذبات امنڈ پڑتے ہیں۔ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی پر بھوک پیاس کے حالات طاری کر کے اس کے اندر انابت کی کیفیت پیدا کرے۔ یہی انابت دعا کی روح ہے۔ جب آدمی کے اندر انابت ابھرتی ہے اسی وقت اس کے اندر سے وہ دعا نکلتی ہے جو سیدھی عرشِ الٰہی تک پہنچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page