صوم رمضان
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
صحيح مسلم (كتاب الصوم) کا ایک باب ان الفاظ میں ہے : باب وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال والفطر لرؤية الهلال - اس باب کے تحت ایک روایت یہ ہے : عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ انہ ذكر رمضان وقال لا تصوموا علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ حتی تروا الهلال ولا تفطر وا حتى تم روزہ نہ رکھو جب تک تم چاند نہ دیکھ لو اور تم ترون فان غمى عليكم فاقدروا افطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ پھر اگر بادل آجاۓ تو تم تیس دن پورا کر لو۔ له ۔ ان حدیثوں کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آغاز رمضان اور عید دونوں کا انحصار رویت ہلال پر ہے۔ جس چیز کو رویت (چاند دیکھنا) کہا جاتا ہے وہ فلکیاتی اعتبار سے اس کا نام ہے کہ چاند کا ایک حصہ زمین کے مغربی افق کے اوپر آجاۓ۔ ہر مہینہ کی ۲۹ تاریخ کو لازماً ایسا ہوتا ہے ۔ چاند اگر افق سے ۸ ڈگری اوپر ہو تو وہ بہ شکل ہلال دکھائی دے گا۔ اگر اس سے نیچے ہو تو وہ دکھائی نہیں دے گا۔ جب چاند اس طرح دکھائی دے جاۓ تو مہینہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور جب دکھائی نہ دے تو مہینہ ۳۰ دن کا شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ عدم یقینیت آنکھ سے دیکھنے کی صورت میں ہے ، وہ رصد گاہی مطالعہ کے لیے نہیں ہے۔ آنکھ سے دیکھنے والے شخص کو پیشگی طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آج چاند نظر آۓ گا یا نظر نہیں آۓ گا۔ لیکن جدید فلکیاتی مشاہدہ اور جدید فلکیاتی حساب کی رو سے پیشگی طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آج چاند کی پوزیشن کیا ہے ۔ اس کے نظر آنے کا امکان بھی حساب (CALCULATIONS) کے ذریعہ معلوم ہو جاتا ہے اور نہ نظر آنے کے امکان کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر معاملہ میں تعینات کو پسند کیا جاتا ہے۔ اس لیے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب جدید علم الافلاک کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پورے سال کے لیے چاند کی پوزیشن پیشگی طور پر معلوم کر لی جاۓ تو کیوں نہ ایسا کیا جاۓ کہ شمسی کیلنڈر کی طرح قمری کیلنڈر بن کر اس کے مطابق روزہ اور عید کے دنوں کا تعین کیا جاۓ۔ ان کے خیال کے مطابق ، ہم کو چاہیے کہ ہم ہلال کے مسئلہ کا فیصلہ انسانی رویت پر منحصر نہ کریں بلکہ اس کو رصد گاہی رویت پر مبنی قرار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader