ارکان اسلام
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے ، وہ لوگوں کی قابل شکایت باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی گزارے۔ جو لوگ اسلام کے ان پانچ ارکان کو محض ان کی شکل کے اعتبار سے اختیار کریں ، وہ مخصوص شکل کی حد تک تو ان کو اپنائیں گے ، مگر ان شکلوں کے باہر ان کی زندگی ان ارکان سے بالکل آزاد اور غیر متعلق ہوگی۔ مثلاً وہ کلمۂ ایمان کے الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائیں گے ، مگر ان مخصوص الفاظ کے باہر جب ان کے سامنے کوئی حق آئے گا تو وہ اس کا اعتراف نہ کر سکیں گے ، کیوں کہ ان کی روح کلمہ کی اسپرٹ سے خالی ہے۔ وہ نماز کی شکل کو مسجد میں کھڑے ہو کر دہرائیں گے۔ مگر مسجد کے باہر جب لوگوں کے ساتھ ان کا سابقہ پیش آئے گا تو وہاں وہ تواضع کا انداز اختیار نہ کر سکیں گے ، اور اس کی وجہ یہ ہوگی نماز کی اسپرٹ ہے وہ ان کے اندر موجود نہیں۔ اسی طرح وہ زکوٰۃ کے نام پر ایک رقم نکال کر کسی کو دیدیں گے۔ مگر اس کے بعد جب وہ لوگوں کے ساتھ معاملات کریں گے تو اس میں وہ خیر خواہی کا ثبوت نہ دے سکیں گے ، کیوں کہ زکوٰۃ اسپرٹ سے ان کا سینہ خالی تھا۔ وہ اہتمام کے ساتھ حج کا سفر کریں گے اور اس کے مراسم ادا کر کے واپس آجائیں گے۔ مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں گے کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ اتحاد و اتفاق کا معاملہ کریں۔ کیوں کہ انھوں نے حج کے باوجود حج اسپرٹ اپنے اندر پیدا نہیں کی۔ رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ موسی عبادت کے طور پر ایک مہینہ کا روزہ رکھ لیں گے۔ مگر وہ صبر کے موقع پر صبر نہیں کریں گے۔ وہ ہر اشتعال پر مشتعل ہو کر لڑنے لگیں گے۔ اور اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ظاہری طور پر انھوں نے روزہ تو رکھ لیا ، مگر ان کے دل و دماغ میں روزہ کی اسپرٹ پیدا نہ ہوسکی۔ جو آدمی اسلام کے پانچ ارکان کو اختیار کرلے وہ مومن و مسلم ہوگیا۔ وہ اس کا مستحق ہوگیا کہ دنیا میں اس کو اللہ کی رحمت ملے اور آخرت میں اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ مگر اسلام کے پانچ ارکان اپنی شکل اور روح دونوں کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ ان کی ادائگی پر جن انعامات کا وعدہ ہے اس کا تعلق کامل ادائگی پر ہے نہ کہ ادھوری ادائگی پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader