دینی تعلیم
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد ایک سیاح نے لکھا ہے کہ میں نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کرنے کے بعد جو چیزیں نوٹ کیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ دیگر قوموں کے یہاں کثرت سے پرانے قلعے ہر جگہ کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر مسلم ممالک میں حیرت انگیز طور پر فوجی قلعے بہت کم ہیں۔ البتہ مسلم بستیاں مسجد کے اونچے اونچے میناروں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ واقعہ مسلمان اور غیر مسلمان کے مزاجی فرق کو بتاتا ہے۔ غیر مسلم کا اعتماد تمام تر اپنی تدبیروں پر ہوتا ہے۔ اور مسلمان کا اعتماد تمام تر اللہ پر۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم قوموں نے اپنے تحفظ اور استحکام کے لئے اونچی دیواروں والے قلعے کھڑے کئے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو جہاں جہاں غلبہ حاصل ہوا انھوں نے خدا کے گھر تعمیر کئے۔ بلند و بالا قلعے اگر زبان حال یہ کہہ رہے تھے کہ "میں بڑا ہوں"، تو مسجدوں کے اوپر کھڑے ہو کر انھوں نے اپنی نسلوں اور دنیا کی آبادیوں کو یہ پیغام سنایا کہ "اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔" مسجد کی حیثیت کسی مقام کے مسلمانوں کے لئے وہی ہے جو کعبہ کی حیثیت ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے۔ کعبہ اہل اسلام کا عالمی دینی مرکز ہے اور مسجد اہل اسلام کا مقامی دینی مرکز۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں ایک طرف کعبہ کو قبلہ (بقرہ ۱۴۳) کہا گیا ہے، وہیں مقامی مساجد کے لئے بھی یہی لفظ (وا جعلوا بیوتکم قبلة ، یونس) استعمال کیا گیا ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی علامت ہے۔ خدا کا گھر اسی علامت کو قائم کرنے کے لئے ہے۔ مقامی طور پر ہر بستی میں اور بین اقوام طور پر مرکز اسلام حجاز میں۔ مسجد میں مسلمان روزانہ پانچ وقت باجماعت نماز ادا کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں ۔ مسجد فطری طور پر مسلمانوں کا دینی مرکز ہے، اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ مسجد کو مسلم آبادی کے درمیان میں بنایا جائے (و ان تبن فی الدور) مسجد اپنے ماحول اور اپنی سرگرمیوں کے اعتبار سے اس بات کا پیغام ہے کہ خدا کے بندو، عبادت ایک اللہ کے لئے ہے۔ سب مل کر اسی ایک اللہ کے عبادت گزار بن جاؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader