Urdu book · صراطِ مستقیم

دینی تعلیم

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

برف کی مانند قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ زمانہ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے۔ سو ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ۔ اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ (العصر) زمانہ ایک گزرتی ہوئی چیز ہے۔ گزرتے ہوئے زمانے میں انسان گویا ایک ٹھہری ہوئی مخلوق ہے۔ وہ بقیہ کائنات کے سرگرم قافلہ کے ساتھ لازمی طور پر بندھا ہوا نہیں ہے۔ انسان کی یہ آزاد نوعیت بتاتی ہے کہ اس کو کامیاب بننے کے لیے اپنے ارادہ کے تحت کوشش کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی اس کی طرف اپنے آپ چلی آ رہی ہے۔ ایک بزرگ نے کہا کہ قرآن کی اس سورہ کا مطلب میں نے برف بیچنے والے سے سمجھا۔ وہ بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ پگھل رہا ہے لوگو اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ پگھل رہا ہے۔ اس کی پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہو تا رہتا ہے ۔ اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی یا بُرے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے (تفسیر امام رازی) انسان اپنی عمر رواں کے ساتھ آخرت کے ابدی انجام کی طرف چلا جارہا ہے وہ ایسے فیصلہ کن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جس نے اپنے عمل سے اس کا استحقاق پیدا کیا ہو جو شخص عملی استحقاق کے بغیر وہاں پہونچے وہ گویا برف کا ایسا دکاندار تھا جس کا برف فروخت ہونے سے پہلے پگھل گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page