دینی تعلیم
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
عبادت کرنے والے ایک شخص کو کسی سے محبت ہو تو محبت کرنے والے ہی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ اس کی یاد سے اس کا دل بھر آئے۔ اس کے برعکس جس کو اس آدمی سے کوئی لگاؤ نہ ہو وہ صرف وقتی تدبیر سے اس کی خاطر رونے والا نہیں بن سکتا۔ ایک شخص لوگوں کے درمیان تواضع کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص ڈھٹائی کا۔ ایک شخص معاملات میں انصاف کرتا ہے اور دوسرا بے انصافی سے پیش آتا ہے۔ ایک عاجزانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہے اور دوسرا متکبرانہ نفسیات کے ساتھ۔ ایک شخص اعتراف کو اپنا طریقہ بنائے ہوئے ہے اور دوسرا ہٹ دھرمی کو۔ تو ایسی حالت میں یہ ناممکن ہے کہ دونوں کی عبادت یکساں ہو۔ ان میں صرف پہلا شخص ہے جس کی عبادت خشوع کی عبادت بنے گی ۔ دوسرا شخص خواہ کتنا ہی چاہے یہ ناممکن ہے کہ وقتی طور پر عبادتی صورت بنا کر وہ اپنی عبادت کو خشوع کی عبادت بنا لے۔ خشوع کی عبادت دراصل خاشعانہ زندگی کا ایک نتیجہ ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں خاشع نہ بنا ہو وہ کبھی خشوع کی عبادت نہیں کر سکتا۔ خدا کی عبادت کرنے والے خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ مگر اس عبادت کی توفیق اس کو ملتی ہے جو عبادت کے مخصوص اوقات کے علاوہ بھی خدا کا عابد بنا ہوا ہو نہ کہ وہ جو صرف وقتی طور پر عبادت کی صورت بنا لے۔ جنت ایک حقیقی جگہ ہے جو خصوصی اہتمام کے ساتھ حقیقی عبادت گزاروں کے لئے بنائی گئی ہے۔ حقیقی جنت ان لوگوں کو نہیں مل سکتی جو صرف جھوٹی عبادت کا سرمایہ لے کر خدا کے یہاں پہنچے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader