Urdu book · صراطِ مستقیم

دینی تعلیم

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کا جذبہ آدمی ملے ہوئے پر مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ ہر شخص کو خدا نے کوئی نہ کوئی نعمت دی ہے۔ مگر آدمی کا حال یہ ہے کہ جو نعمت نہیں ملی اس کی طرف متوجہ رہتا ہے اور جو نعمت ملی ہوئی ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر اپنے خدا کے لئے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔ وہ اس قیمتی کیفیت سے محروم رہ جاتا ہے جو جنت کا مستحق بننے کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لئے نہیں۔ اگر سرد علاقہ کے مسائل ہیں تو گرم علاقہ کے بھی مسائل ہیں۔ اگر کم آمدنی والے کی زحمتیں ہیں تو زیادہ آمدنی والے کی بھی زحمتیں ہیں۔ اگر بے زور کچھ مشکلوں سے دو چار ہے تو ان کی بھی مشکلیں ہیں جن کو زور وقوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ اس کی تو جہات کا مرکز خدا کی رضا ہو نہ کہ مشکلات سے خالی زندگی حاصل کر نا، کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن نہیں۔ جو شخص آخرت کی جنت کا مالک بننا چاہتا ہو اس کو سب سے بڑا تحفہ جو اپنے رب کی خدمت میں پیش کرنا ہے وہ شکر ہے، اور شکر کا جذبہ اس کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا کہ آدمی مشکلات و مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی نظر پیدا کرے۔ جنت کی قیمت شکر ہے اور جنت اسی کو ملے گی جو اس کی قیمت ادا کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page