Urdu book · صراطِ مستقیم

دینی تعلیم

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

مانگنے والا پاتا ہے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ جنت کا نام لیتے ہیں مگر جہنمی اعمال میں مشغول ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے خدا سے اس کی جنت مانگی ہی نہیں۔ اگر وہ خدا سے جنت مانگتے تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ لوگوں کو ایسے راستوں میں چلنے دے جو انھیں جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے جنت مانگیں اور وہ آپ کو جہنم دیدے۔ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو غفلت میں مبتلا کردے۔ آپ آخرت کی ترغیب مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے۔ آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دین داری میں پڑار رہنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی کوٹھری میں بند کردے۔ اگر آپ کی زندگی میں مطلوب چیز نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نہ مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔ یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے جنت مانگی تھی اور تو نے جہنم میرے حوالے کردی۔ بخدا یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے سارے خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں۔ مگر جن کو لینا ہے وہ خود منہ پھیرے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page