نار جہنم
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
جاننے کی بات موجودہ دنیا میں آدمی اپنے کو آزاد سمجھ رہا ہے ۔ وہ نڈر ہو کر جو چاہے بولتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے ۔ اگر کسی کو کچھ مال ہاتھ آگیا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میرا مستقبل محفوظ ہے۔ کسی کو کوئی اقتدار حاصل ہے تو وہ اپنے اقتدار کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے اس کا اقتدار کبھی چھینے والا نہیں ۔ ہر آدمی پر اعتماد چہرہ لئے ہوئے ہے ۔ ہر آدمی پہنتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ یہاں تک کہ اچانک موت کا بگل بج جاتا ہے ۔ خدا کے فرشتے آتے ہیں اور اس کو موجودہ دنیا سے نکال کر ایک مجبور انسان کی طرح اگلی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں ۔ یہی ہر آدمی کا معاملہ ہے ۔ جب یہ بھیانک لمحہ آتا ہے تو آدمی اپنے اندازہ کے بالکل خلاف صورت حال کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو جاتا ہے ۔ اچانک اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ محض دھوکا تھا جس کو اس نے اپنی غفلت سے سب سے بڑی حقیقت سمجھ لیا تھا۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے اپنے کو آزاد سمجھا تھا مگر میں تو بالکل بے اختیار نکلا۔ میں اپنے کو مال و جائداد والا پارہا تھا مگر میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا ۔ میرا خیال تھا کہ میرے پاس طاقت ہے مگر میں تو خدا کی اس دنیا میں مکھی اور مچھر سے بھی زیادہ بے زرر تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں مگر یہاں تو کوئی ایک بھی میرا ساتھی اور مددگار نہیں ۔ آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader