Urdu book · صراطِ مستقیم

نار جہنم

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

قبر کا دروازہ قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ اس دروازہ کے ذریعہ آدمی آج کی دنیا سے نکل کر کل کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جو آج قبر کے اس پار ہے وہ کل اپنے آپ کو قبر کے اُس پار پائے گا۔ ہر شخص جو زندہ ہے وہ موت کے مقابلے میں اس طرح شکست کھانے والا ہے کہ کوئی نہ ہوگا جو اس کو بچاسکے۔ مگر اس سب سے بڑی حقیقت کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے یہ منظر دیکھا ہے کہ کسی شخص کے لیے قبر کا دروازہ کھلا اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کے اوپر بند ہوگیا۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ خود ان کے لئے بھی یہ دروازہ ایک دن کھولا جائے گا اور پھر اسی طرح ان کے اوپر بند کیا جائے گا جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا ہے۔ آدمی کی یہ نفسیات بھی کیسی عجیب ہے کہ دوسروں کو وہ ہر روز مرتے ہوئے دیکھتا ہے مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے، اس کے اپنے لئے موت کا وقت کبھی آنے والا نہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ ایک ایک کرکے روزانہ خدا کے یہاں پیشی کے لئے بلائے جارہے ہیں۔ مگر خود اپنے کو اس طرح الگ کرلیتا ہے گویا عدالت الہی میں حاضری کا یہ دن اس کے اپنے لئے کبھی نہیں آئے گا۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں رت سے زیادہ قریب ہے۔ یہ احساس اگر زندہ ہو تو آدمی ہر موت کو اپنی موت سمجھے۔ وہ دوسرے کا جنازہ دیکھے تو اس کو ایسا معلوم ہو گویا خود اس کی لاش اٹھاکر قبر کی طرف لے جائی جارہی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page