نار جہنم
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
آنے والا دن موت ایک قسم کی گرفتاری ہے۔ موت وہ دن کر اس کے مالک کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔ گرفتاری کا مطلب شخص کا قید تنہائی میں ہے جب کہ فرشتے کسی آدمی کو پکڑ ے تو اس کا آخری انجام کیا ہوگا گرفتاری کا یہ دن ہر شخص کی طرف تیزی سے دوڑا چلا آ رہا ہے۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسروں کی گرفتاری کو تو خوب جانتے ہیں مگر خود اپنی گرفتاری کی انہیں خبر نہیں۔ وہ دوسروں کے پکڑے جانے کا بہت چرچا کرتے ہیں۔ مگر اپنے لئے آنے والے اس دن کو یاد نہیں کرتے جب کہ خدا کے فرشتے بے رحمی کے ساتھ انہیں پکڑ کر مالک کائنات کی عدالت میں پہنچا دیں گے۔ آدمی دوسروں کی کمزوریوں کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے، حالانکہ جانتے والے وہ ہے آدمی دوسروں کی عیبوں کا ماہر ہوا ہے، حالانکہ وہ ہے جو اپنی کمیوں کو جانتا ہو۔ آدمی جواب دے کر اپنے کو محفوظ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ محفوظ پیاروں کے درمیان رہ کر بھی انسان تنہا ہے وہ ہے جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔ شائستگی، وقار، کمال، تمام عنوان اس کے نام اور اس کے بعد یہ واقع ہو گیا کہ خدائی گرفتاری کا دن تمام ہولناک دلوں سے زیادہ ہولناک ہے۔ اس کا اگر واقعی احساس ہو جائے تو آدمی کی پوری زندگی بدل جائے۔ وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جائے۔ وہ خدائی انصاف کے اس ترازو پر آج ہی اپنے کو کھڑا کر لے جس پر دوسرے نام نہاد پاپ کے لوگ مرنے کے بعد کھڑے کئے جانے والے ہیں ۔ کے گناہگاروں کے ہے، مگر یہ سب کچھ اس کے کے لیے ہے، جو اس کے آدمی اگر خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے۔ دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اسے محسوس ہو گویا خود اس کو باندھ کر کائنات کی عدالت ں، میں اس طرح کے خیالات کی میں لے جایا جا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader