سچا راستہ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ کوئی بھی اس کا ہمسہر نہیں (سورہ اخلاص) مساوات انسان نے خود اپنے معاملہ میں بھی وہی غلطی کی جو اس نے خدا کے معاملہ میں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ انسانوں میں کوئی مال دار ہے اور کوئی غریب، کوئی سفید ہے اور کوئی کالا، کوئی اونچے گھرانے کا ہے اور کوئی معمولی گھرانے کا۔ ان فرقوں کی بنا پر لوگوں نے آدمیوں میں فرق کرنا شروع کر دیا۔ انھیں بنیادوں پر ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان اونچ نیچ قائم ہو گئی۔ پیغمبر اسلام نے بتایا کہ اس طرح کے فرق حقیقی نہیں ہیں، وہ محض ظاہری اور اعتباری ہیں۔ ان کا انسانی اونچ نیچ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان فرقوں کے باوجود تمام انسان برابر ہیں۔ سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے کے اوپر رنگ اور نسل اور عہدہ اور مال کی بنا پر بڑائی حاصل نہیں ۔ بڑائی کا معیار آدمی کا کردار ہے نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت۔ بڑا حقیقت میں وہ ہے جو خدا کا فرماں بردار ہے، چھوٹا وہ ہے جو خدا کا فرماں بردار نہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے لوگو، خدا نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھارے کنبے اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے (الحجرات ۱۳) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج (سنہ ) کے خطبہ میں اعلان کیا : اے لوگو، سن لو تمھارار رب ایک ہے، کسی عربی کو کسی | یا ایھا الناس الا ان ربکم واحد، لا غیر عربی پر یا کسی غیر عربی کو کسی عربی پر کوئی فضلیت نہیں | فضل لعربی علی عجی ولا لعجمی علی اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی | عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمے کالے پر کوئی فضلیت ہے۔ فضیلت کی بنیاد صرف | علی اسود الا بالتقوی، ان اکرمكم تقویٰ ہے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت | عند اللہ اتقاكم - الناس من آدم و آدم والا ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ تمام انسان | من تراب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے۔ اسلام یہ بتاتا ہے کہ جس طرح خدا ایک ہے اسی طرح تمام انسان بھی ایک ہیں۔ فرق یہ ہے کہ خدا کی وحدت اپنی ذات کے اعتبار سے ہے اور انسان کی وحدت اپنی تخلیق کے اعتبار سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader