حیات طیبہ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
راہ میں خرچ کرتے ہیں ، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دکھ دیتے ہیں انھیں کے لئے اللہ کا ثواب ہے ان کے رب کے پاس ۔ ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ نرم جواب دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو، اور اللہ بے نیاز اور تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو ! احسان جتا کر اور دکھ دے کر اپنی خیرات کو اکارت نہ کرو ، اس شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوا کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو ، پھر جب اس پر زور کا مینہ برسا تو مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں گے اور اللہ منکروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے لئے اور اپنے دلوں کو ثابت کر کے خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو بلند زمین پر ہو، اس پر زور کی بارش ہوئی تو وہ دگنا پھل لایا اور اگر بارش نہ ہوئی تو پھوار ہی کافی ہے۔ اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو ، اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں ، اس باغ میں اس کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں اور اس پر بڑھاپا آجائے اور اس کے بچے کم زور ہوں ، اس وقت باغ پر ایک بگولہ آپڑے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے۔ اللہ اس طرح اپنی باتیں تمھارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم سوچو۔ اے ایمان والو ، اپنے کمائے ہوئے ستھرے مال میں سے خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری چیز چھانٹنے لگو ، حالانکہ وہی چیز اگر تمھیں لینا ہو تو تم ہرگز اس کو لینا گوارا نہ کرو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ہے خوبیوں والا ہے۔ شیطان تم کو تنگ دستی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کی راہ سمجھاتا ہے اور اللہ تم کو وعدہ دیتا ہے اپنی بخشش کا اور فضل کا ۔ اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اس کو بہت بڑی خوبی مل گئی اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں (۲۹ - ۲۶۱) عمرہ اور حج حج اور عمرہ کو پورا کرو اللہ کے لئے ، اور اگر تم روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر آئے اسی کو پیش کر دو اور اپنے سر نہ مونڈ و جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے۔ مگر جو شخص مریض ہو یا اس کو سر کی تکلیف ہو تو اس کے لئے فدیہ ہے روزے رکھنا یا صدقہ دینا یا قربانی کرنا ۔ پھر جب تم کو امن ہو جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader