دینی تعلیم
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
قیامت ہر روز رات کے بعد دن آتا ہے۔ جو چیزیں رات کے وقت اندھیرے میں چھپی ہوئی تھیں وہ دن کے اجالے میں ایک ایک کرکے سامنے آجاتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا کے بعد آخرت کی دنیا آئے گی۔ اس وقت تمام حقیقتیں دن کی روشنی کی طرح کھل جائیں گی۔ آج آدمی اپنی برائی کو مصنوعی اعمال میں چھپالیتا ہے ۔ کسی کو خوبصورت الفاظ مل گئے ہیں جو اس کی باطل پرستی کو حق پرستی کے روپ میں پیش کر رہا ہے۔ کسی کے لئے اس کی ظاہری رونقیں اس کی باطنی گندگی کا پردہ بن گئی ہے۔ ہر آدمی کی حقیقت " رات " کی تاریکی میں ڈھکی ہوئی ہے۔ مگر قیامت اس طرح کے تمام پردوں کو پھاڑ دے گی ، وہ دن کی روشنی کی طرح ہر چیز کو اس کی اصلی حالت میں دکھادے گی۔ وہ وقت بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس دن ہر آدمی وہاں کھڑا ہوا دکھائی دے گا جہاں وہ حقیقتہً تھا نہ کہ اس مصنوعی مقام پر جہاں وہ آج اپنے کو کھڑا کئے ہوئے ہے۔ کتنے لوگ جو آج اقتدار کے مالک بنے ہوئے ہیں اس دن ان کے پاس عجز اور بے چاری کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم شخصیت کا درجہ پائے ہوئے ہیں اس دن وہ کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شان دار جواب ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہو چکے ہوں گے جیسے کہ ان کے پاس الفاظ ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader