دینی تعلیم
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
جانچا جا رہا ہے موجودہ دنیا میں ارادہ کی حد تک انسان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ مگر واقعات برپا کرنے کا اختیار کسی کو نہیں۔ دنیا میں جتنے واقعات ہوتے ہیں سب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں۔ اور ان کی مصلحت یہ ہوتی ہے کہ مختلف حالات میں ڈال کر افراد کا امتحان لیا جائے۔ کوئی واقعہ اس لئے ہوتا ہے کہ ایک شخص کو صبر، انصاف اور حق پرستی کا کریڈٹ دیا جائے اور دوسرے شخص کو بے صبری، ظلم اور حق سے بے پروائی کا مجرم ٹہرایا جائے۔ کوئی واقعہ اس لئے پیش آتا ہے کہ ایک شخص کو کسی بندہ خدا کے خلاف سازش، بد معاملگی اور زیادتی کا موقع دے کر اس کے جھوٹے دعویٰ اسلام کو باطل ثابت کیا جائے۔ دوسری طرف اس بندہ خدا کی خصوصی تائید کر کے لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ سچائی پر ہے اور اس کی مدد پر خدا کھڑا ہوا ہے۔ ایک شخص حق پر ہوتا ہے، اس کے باوجود اس کو بے بسی اور بے کسی کی حالت میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دوسرا شخص ناحق پر ہوتا ہے اس کے باوجود اس کے گرد دنیا کی رونقیں جمع کردی جاتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ کون ہے جو ظہار سے گزر کر حق کو پا لیتا ہے اور حق کا ساتھ دینے والا قرار پاتا ہے اور کون ہے جو ظاہری چیزوں میں اٹک جاتا ہے اور اس کا مستحق ٹھہرتا ہے کہ خدا کے یہاں اس کو حق کو نظر انداز کرنے والوں میں اٹھایا جائے۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز امتحان کے لئے ہے۔ یہاں طاقت ور ہونا بھی امتحان کے لئے ہے اور کمزور ہونا بھی امتحان کے لئے۔ یہاں کسی کو امیر بنا کر جانچا جا رہا ہے اور کسی کو غریب بنا کر۔ موجودہ دنیا میں نہ کسی کامیاب شخص کے لئے خوش ہونے کا موقع ہے اور نہ کسی ناکام شخص کے لئے غمگین ہونے کا۔ کیوں کہ دونوں یکساں طور پر امتحان کے میدان میں کھڑے ہوئے ہیں۔ خدا مختلف قسم کے واقعات برپا کر کے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اپنے حالات میں کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ اسی رد عمل پر کسی کے لئے جنت کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی کے لئے جہنم کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader