دینی تعلیم
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ والے ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کے لئے جیتا ہے۔ کوئی اپنے بیوی بچوں کے لئے جیتا ہے۔ کوئی مال و دولت کے لئے اور کوئی عزت واقتدار کے لئے۔ مگر اس قسم کی زندگی مومنانہ زندگی نہیں ۔ مومنانہ زندگی وہ ہے جب کہ آدمی اللہ کے لئے جینے لگے۔ اس کی سرگرمیاں خدا کے گرد گھومنے لگیں۔ اس کی سوچ اور خواہش پر خدا کا غلبہ ہو جائے۔ وہ زبان کھولے تو یہ سوچ کر کھولے کہ خدا کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کو حرکت دے تو انہیں حدود میں حرکت دے جو خدا کی طرف سے اس کے لئے مقرر ہیں۔ آدمی کے سامنے کسی کی طرف سے ایک بات آتی ہے۔ اس کا نفس اس کے جواب کے لئے فوراً کچھ الفاظ سمجھاتا ہے۔ مگر جو اللہ میں جینے والے ہیں وہ نفس کے دئے ہوئے الفاظ کو نہیں دہراتے بلکہ خدا سے الفاظ لے کر بولتے ہیں۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ کل جب میں خدا کے سامنے کھڑا ہوں گا تو وہاں کون سے الفاظ مانے جائیں گے اور کون سے الفاظ رد کر دئے جائیں گے۔ جن الفاظ کے متعلق اس کا ضمیر کہتا ہے کہ وہ خدا کے یہاں رد ہو جائیں گے ان کو وہ اسی دنیا میں رد کر دیتا ہے اور صرف ان الفاظ کو اپنی زبان پر لاتا ہے جو خدا کے یہاں قبول کئے جانے والے ہوں۔ اسی طرح آدمی کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے۔ اس کا نفس فوراً اس کو ایک طریقہ کی ترغیب دیتا ہے۔ مگر اللہ میں جینے والا آدمی نفس کے بتائے ہوئے طریقہ پر نہیں دوڑ پڑتا بلکہ یہ سوچتا ہے کہ کون سا طریقہ خدا کی ترازو میں انصاف کا طریقہ ثابت ہوگا اور کون سا بے انصافی کا۔ وہ بے انصافی کے طریقہ کو چھوڑ دیتا ہے خواہ اس میں اس کو عزت اور دولت ملتی ہو اور انصاف والے طریقہ کو پکڑ لیتا ہے خواہ بظاہر اس میں سبکی ہوتی ہو اور دنیا کا نقصان ہوتا ہوا نظر آتا ہو۔ وہ ہر بات کو خدا کے لحاظ سے دیکھتا ہے نہ کہ کسی اور لحاظ سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader