Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کا مشن پھیلا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات کچھ افغانی انتہا پسندوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے افغانی انتہا پسندوں سے کہا کہ آپ لوگ خودکش بم باری کیوں کرتے ہیں۔ افغانی انتہا پسند نے کہا کہ ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، اس لیے ہم مجبور ہو کر خودکش بم باری کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس جو ہتھیار ہے، اُس کا جواب اُن کے پاس نہیں۔ فارسی زبان میں یہ گفتگو اس طرح تھی: افغانی : جواب اسلحہ آنها پیش مانیست مسٹر بٹ : جواب اسلحہ شما پیش آنہا نیست انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کر رہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللهَ يُعطى عَلى الرّفق، م الا يَعطى عَلَى العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی خدا پر امن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد 6 ہجری میں آپ نے فریق ثانی سے امن کا معاہدہ کر لیا، جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پیس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتح مبین (1 :48) کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔ چشمہ کا سبق کشمیر کے ایک سفر میں، میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ میں کچھ کشمیری ساتھیوں کے ہم راہ شہر سے باہر گیا۔ وہاں کھلی ہوئی وادی تھی۔ سامنے کے پہاڑ سے چشمے بہہ کر آ رہے تھے اور وادی میں بہتے ہوئے وہ آگے کی طرف چلے جا رہے تھے۔ ان چشموں کے راستے میں بار بار پتھر کے ٹکڑے آ رہے تھے، لیکن چشمہ ان پتھروں سے ٹکراتے بغیر اپنا راستہ بدل کر آگے کی طرف بڑھ جاتا تھا۔ میں وہاں بیٹھ گیا اور خاموشی کے ساتھ بہتے ہوئے چشمے کے اس منظر کو دیکھتا رہا۔ پھر میں نے اپنے کشمیری ساتھیوں سے کہا کہ دیکھیے، پانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page