Urdu book · صبح کشمیر

فطرتے خلاف

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کے خلاف انسانی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے جو سرگرمیاں کی جاتی ہیں، ان کو تحریک (movement) کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں تحریک کی دو صورتیں ہیں ۔ مبنی بر ذہن تحریک، مبنی بر نظام تحریک (mind-based activism, system-based activism)_ تحریک کا وہ انداز جو فطرت کے مطابق ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے ۔ مبنی بر ذہن تحریک۔ اس کے برعکس، مبنی بر نظام تحریک، فطرت کے یا خالق کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ اس فرق کی بنا پر ہمیشہ ایسا ہوگا کہ مبنی بر نظام تحریک ہمیشہ ناکام ہوگی اور مبنی بر ذہن تحریک ہمیشہ کامیاب۔ آج کی دنیا میں جو فطرت اور تشدد پایا جاتا ہے، وہ صرف اس قانون فطرت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں، کشمیر اور دوسرے مقامات پر جو تحریکیں چلائی گئیں، اُن میں سے کوئی تحریک ایسی نہیں ہے جو ذہن (mind) کو نشانہ بنا کر چلائی گئی ہو۔ وہ سب کی سب نظام (system) کو نشانہ بنا کر چلائی گئیں۔ اس لیے اُن کا یہ منفی انجام ہوا کہ اس طرح کی ہر تحریک کا نتیجہ صرف تباہی کی صورت میں برآمد ہوا ۔ سیکڑوں سال کی روایات ٹوٹ گئیں، لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئیں جو آخر کار تشدد تک جا پہنچیں۔ باہمی خیر خواہی کا ماحول ختم ہو گیا، وغیرہ۔ مبنی بر نظام تحریک غیر فطری تحریک ہے۔ صحیح تحریک وہ ہے جو اصلاحِ ذہن کی بنیاد پر چلائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام کا الگ سے کوئی وجود نہیں۔ انسان کے مجموعے ہی کا دوسرا نام نظام ہے۔ انسان اگر فرداً فرداً اصلاح یافتہ ہو جائیں تو اُن کے مجموعے سے جو نظام بنے گا، وہ فطری طور پر ایک اصلاحی نظام ہوگا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اصلاح کی تحریک فرد سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ نظام سے۔ جو تحریک نظام کی اصلاح کے نام پر شروع کی جائے، وہ اپنے آغاز ہی سے دو طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرے گی، اور جہاں نفرت اور ٹکراؤ پایا جائے، وہاں عملاً اصلاح کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ صالح تحریک، غیر صالح تحریک ہر آدمی کے اندر ایک شیطان چھپا ہوا ہے۔ یہ شیطان، نفرت کا بم (hate bomb) ہے۔ ہر آدمی امکانی طور پر نفرت کا بم اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ نفرت کا یہ بم عام حالات میں، انسان کے اندر سویا ہوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page