Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ نقصان بتظاہر کسی انسان کی طرف سے پیش آتے ہیں، اس لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُسی انسان کو نقصان کا ذمہ دار سمجھ کر اس کے خلاف نفرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ نفرت بڑھتے بڑھتے تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر یہ سوچ سنت الہی کے خلاف ہے۔ اسی لیے نفرت اور تشدد کا کوئی مثبت انجام ایسے لوگوں کو نہیں ملتا۔ صحیح یہ ہے کہ جب کوئی نقصان پیش آئے تو اس کا الزام دوسروں کو نہ دیا جائے، بلکہ خود اپنا محاسبہ (introspection) کیا جائے۔ دنیا کے ان نقصانات کے حوالے سے آخرت کو یاد کیا جائے۔ ان نقصانات کو خدائی یاد دہانی (divine warning) سمجھا جائے اور اپنی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اس طرح کے نقصانات کو اگر خدا کے قائم کردہ نظامِ فطرت کے خانے میں ڈالا جائے تو اُس سے لوگوں کے اندر مثبت ذہن بنے گا۔ ایسا کرنے سے لوگ کھوئے ہوئے غم کو لے کر مایوسی کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے اور اُس سے سبق لے کر از سر نو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں گے۔ جس طرح ہر پیدا ہونے والے پر موت آتی ہے، اور زندہ رہنے والوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس موت کو بھلا دیں ، اِسی طرح، ہر پائی ہوئی چیز کو کبھی نہ کبھی کھونا پڑتا ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کو اُسی طرح بھلا دے، جس طرح وہ مرنے والے کو بھلا دیتا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ایک چیز کھوئی جاتی ہے تو فطرت کے نظام کے تحت، دوسری ہزاروں چیزیں موجود رہتی ہیں جو اب بھی انسان کو حاصل ہیں۔ ایسی حالت میں، کھوئے ہوئے کو نہ بھلانے کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ملی ہوئی چیزوں کا شکر ادا کرنے سے محروم ہو رہا ہے۔ یہ گویا دنیا کے حقیر نقصان پر آخرت کے عظیم نقصان کا خطرہ مول لینا ہے۔ یہ عارضی محرومی کی خاطر اپنے آپ کو ابدی محرومی کا مستحق بنانا ہے، اور بلاشبہہ کوئی مومن اس تباہ کن روش کا تحمل نہیں کر سکتا۔ کوئی نقصان، نقصان نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ 13 سال کے بعد آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔ یہ غزوہ مدینے سے باہر جبل احد کے پاس ہوا تھا۔ اس غزوہ میں 70 صحابہ شہید ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page