Urdu book · تعددِ ازدواج

تعددِ ازدواج

Urdu book, PDF p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

تعددِ ازدواج قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارہ میں جو احکام دیئے گئے ہیں ، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جو تعددِ ازدواج (چار عورتوں تک نکاح کرنے) کے بارہ میں ہے۔ اس سلسلہ میں آیت کے الفاظ یہ ہیں : وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچوں کے معاملہ میں انصاف ماطاب لكم من النساء مثنی و ثلٰث و نہ کر سکو گے تو (بیوہ) عورتوں میں جو تم کو پسند ہوں رباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدة ان سے دو دو ، تین تین ، چار چار سے نکاح کر لو۔ (النساء ۳) اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے ، تو ایک ہی نکاح کرو۔ یہ آیت غزوہ احد (شوال ۳ ھ) کے بعد اتری۔ اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں بہت مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے مدینہ کی بستی میں اچانک بے گھر مردوں سے خالی ہو گئے۔ نتیجہ یہ صورت حال پیش آئی کہ وہاں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اس معاشرتی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے ۔ اس وقت قرآن میں مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کر کے یتیم بچوں کو اپنی سر پرستی میں لے لیں ۔ اپنے الفاظ اور اپنے شانِ نزول کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک وقتی حکم نظر آتا ہے۔ یعنی اس کا تعلق اس صورت حال سے ہے جب کہ جنگ کے نتیجہ میں آبادی کے اندر عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تھی اور مردوں کی تعداد کم ۔ مگر قرآن اپنے نزول کے اعتبار سے زمانی ہونے کے باوجود ، اپنے اطلاق کے اعتبار سے ایک ابدی کتاب ہے۔ قرآن کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ زمانی زبان میں ابدی حقیقت بیان کرتا ہے۔ اس کا یہ حکم بھی اس کی اسی صفت خاص کا مظہر ہے۔ زیادہ شادی کا معاملہ صرف مرد کی مرضی پر منحصر نہیں ، اس کی لازمی شرط (Inescapable condition) یہ ہے کہ معاشرہ میں زیادہ عورتیں بھی موجود ہوں۔ اگر زمین پر ایک ہزار ملین انسان بستے ہوں ، اور ان میں ۵۰۰ ملین مرد ہوں اور ۵۰۰ ملین عورتیں ، تو ایسی حالت میں مردوں کے لیے ممکن ہی نہ ہوگا کہ وہ ایک سے زیادہ نکاح کریں۔ ایسی حالت میں ایک سے زیادہ نکاح صرف جبراً کیا جا سکتا ہے ، اور جبری نکاح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page