Urdu book · تعارف اسلام

رسالت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

بن جاتا ہے اور انرجی ختم ہوتی ہے تو وہ مادہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے مگر انسان مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ اس نے معلوم کرلیا کہ کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی محکم قانون میں بندھی ہوئی ہیں اور اس سے ادنیٰ انحراف کئے بغیر کھرب ہا کھرب سال تک چلتی رہتی ہیں۔ مگر انسان کا قانون حیات کیا ہو، اس کے بارے میں وہ کچھ معلوم نہ کرسکا۔ اس نے کائنات کی وسعتوں کو اپنے آلات کی مدد سے دیکھ لیا اور انتہائی چھوٹے ایٹم کے اندرونی نظام کا پتہ کرلیا۔ مگر انسان کی حقیقت کیا ہے، وہ کس منصوبہ کے تحت وجود میں آیا ہے اس کی بابت وہ کچھ نہ جان سکا۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت کے بارے میں انسان کی یہ مجبوری ثابت کرتی ہے کہ اس کو اس بارے میں ایک خصوصی رہنادرکار ہے۔ اس سے پیغمبر کی ضرورت پوری طرح ثابت ہوجاتی ہے۔ انسان اپنی زندگی کو با معنی بنانے کے لئے پیغمبر کا لازمی طور پر محتاج ہے۔ اس کے بعد جب ہم ان تعلیمات پر غور کرتے ہیں جو پیغمبر نے پیش کی ہیں تو مزید یقین ہوجاتا ہے کہ پیغمبری فی الواقع انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ پیغمبر کی بتائی ہوئی باتیں ان تمام سوالات کا تسلی بخش اور مکمل جواب ہیں جو انسان کو درپیش ہیں۔ یہ تعلیمات خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیغمبر واقعی اللہ کی طرف سے ہے ۔ اللہ نے اس کو حقیقت کا علم دے کر انسانوں کی رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ بقیہ چیزوں کا قانون عمل ان کے پیدا کرنے والے نے اندرونی طور پر ان کے اندر رکھ دیا اور انسان کا قانون عمل پیغمبر کے ذریعہ اس کے پاس بھیجا۔ پیغمبر ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے اور وہ اپنی غیر معمولی قدرت کے ساتھ اس نظام کو چلا رہا ہے۔ اس جواب سے زیادہ صحیح جواب کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ یہ جواب ایسا ہی ہے جیسے ایک مشین بہت عمدہ چل رہی ہو۔ لوگ اس کی کارکردگی کو دیکھ کر حیران ہوتے ہوں۔ مگر اس کی ساخت اس پر بھی ہوئی نہ ہو۔ اب ایک واقف کار یہ کہے کہ یہ فلاں کارخانہ کی بنی ہوئی ہے جو دنیا بھر میں انجینرنگ کا سب سے اچھا کارخانہ ہے۔ یہ بات معلوم ہوتے ہی دیکھنے والوں کی الجھن ختم ہو جائے گی کیونکہ اب ان کو مشین کی اعلیٰ کارکردگی کی توجیہہ مل گئی۔ اسی طرح ایک عظیم کائنات کا موجود ہونا اور پھر اس کا حد درجہ محکم طریقہ پر چلنا اس کے بارے میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ وہ کیوں کر بنی اور کیسے چل رہی ہے۔ جب پیغمبر یہ کہتا ہے کہ ایک خدا ہے جس نے اس کو بنایا اور جو اس کو اپنی خدائی طاقتوں سے چلا رہا ہے تو فوراً ہم کو اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ جواب ہمارے لئے ذرا بھی بعید از قیاس نہیں۔ کیوں کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ ہم اپنی ذات کی سطح پر ایک ایسے وجود کا تجربہ کر رہے ہیں جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سوچتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے ، جو واقعات کو ظہور میں لاتا ہے۔ "انسان" کی صورت میں جن قوتوں کو ہم محدود طور پر دیکھ رہے ہیں وہی قومیں زیادہ کامل طور پر خدا کی صورت میں موجود ہوں تاوس میں تعجب کی بات کیا ہے۔ یہ تو گویا یا اسی واقعہ کو زیادہ بڑے پیمانہ پر ماننا ہے جس کا ہر وقت ہم چھوٹے پیمانہ پر تجربہ کر رہے ہیں۔ "میں" ہوں یہی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ "خدا" ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page