Urdu book · تعارف اسلام

انفاق

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

انفاق قرآن میں انفاق پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے: تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی وہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کروگے اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے (آل عمران (۹۲) اور جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل کرتے ہیں، یہ خیال نہ کریں کہ یہ ان کے حق میں اچھا ہے، بلکہ یہ ان کے حق میں نہایت برا ہے۔ جس چیز میں وہ بخل کر رہے ہیں اس کا قیامت کے دن ان کو طوق پہنایا جائے گا۔ اور زمین و آسمان کی وراثت اللہ ہی کے لئے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے (آل عمران (۱۸۰) اے ایمان والو، جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی۔ اور جو انکار کرنے والے ہیں وہی دراصل ظالم ہیں (بقرہ (۲۵۴) جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے لئے وہ چاہتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے اور نہ دکھ دیتے ہیں، انھیں کے لئے اللہ کا ثواب ہے ان کے رب کے پاس۔ ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ نرم جواب دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزارسی لگی ہوئی ہو۔ اور اللہ بے پروا اور نہایت تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو، احسان جتا کر اور دکھ دے کر اپنی خیرات کو اکارت نہ کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر جب اس پر زور کا مینہ برساتو مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنی کمائی سے کچھ بھی حاصل نہ کرسکیں گے، اور اللہ منکروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے لئے اور اپنے دلوں کو ثابت کرکے خرچ کرتے ہیں اس باغ کی طرح ہے جو بلند زمین پر ہو، اس پر زور کی بارش ہوئی تو وہ دگنا پھل لایا اور اگر بارش نہ ہوئی تو پھوار ہی کافی ہے۔ اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، اس کے نیچے نہری بہتی ہوں، اس باغ میں اس کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں، اور اس پر بڑھاپا آجائے اور اس کے بچے ضعییف ہوں، اس وقت باغ پر ایک بگولا آپڑے جس میں آگ ہو اور وہ باغ جل جائے۔ اللہ اس طرح اپنی باتیں تمھارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔ اے ایمان والو، اپنے کمائے ہوئے ستھری مال میں سے خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھارے لئے زمین سے پیدا کی ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری چیز چھانٹنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر تمھیں لینا ہو تو تم ہرگز اس کو لینا گوارا نہ کرو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز ہے خوبیوں والا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page