Urdu book · تعارف اسلام

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

نرمی کا معاملہ فرمائے۔ اس کی یہ نفسیات اس کو دوسرے انسانوں کے معاملہ میں نرم کر دیتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کی زیادتیوں کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اس کا خدا قیامت کے دن اس کی زیادتیوں کو معاف کر دے۔ وہ خدا کے بندوں کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرتا ہے تاکہ خدا بھی اس کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرے۔ بندوں کی طرف سے اس کو جتنا ملتا ہے اس سے زیادہ وہ ان کو لوٹاتا ہے تاکہ خدا اس کے تحقیر عمل کے بدلے اپنے بڑے بڑے انعامات اس کے حصہ میں لکھ دے۔ اسلامی سماج میں آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنے ذمہ داریوں کو دیکھتا ہے اور اختلاف و شکایت کے مواقع پر خود اپنے کو قصور وار مان لیتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا۔ وہ آیا اور آپ سے بہت بھدے انداز میں تقاضا کرنے لگا۔ آپ کے اصحاب جو اس وقت آپ کے ساتھ تھے، اس کی سخت باتوں کو سن کر بگڑ گئے اور اس کو مارنا چاہا۔ آپ نے منع فرمایا۔ آپ نے اس کے تصور کو اپنے آپ پر لیتے ہوئے فرمایا : اس کو چھوڑ دو۔ کیونکہ ایک حق دار کو کہنے سننے کا حق ہے (دعوۃ فان لصاحب الحق مقالاً ، متفق علیہ)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذات سے نمونہ قائم کر کے حق دار کو کہنے سننے کا موقع دیا اور اس طرح ہر قسم کے سماجی فساد کی جڑ کاٹ دی۔ اسلامی سماج میں یہ مزاج ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حد درجہ رعایت کی جائے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور مدینہ کی مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو پکڑنے اور مارنے کے لئے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ نے لوگوں کو منع فرمایا اور اس کو پیشاب کرنے سے نہ اٹھایا۔ آپ نے کہا: اس اعرابی کو چھوڑ دو اور اس نے جہاں پیشاب کیا ہے وہاں ایک ڈول پانی کا ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے (بخاری)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نرم ہے اور سارے معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے (ان اللہ رفيق يححب الرفق فى الامر كله ، متفق علیہ) یہ نرمی اور رعایت اسلامی سماج کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسلامی سماج ایک با اصول سماج ہے مگر اسی کے ساتھ وہ حد درجہ نرمی اور رعایت کا سماج ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے لئے شدت اور دوسرے کے لئے رعایت کو پسند کرے۔ اسلامی سماج میں کم بولنے اور زیادہ عمل کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک جہاد میں لڑ کر مرا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اس کو جنت کی خوش خبری ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمايا: تم کو کیا معلوم شاید وہ شخص بے فائدہ باتیں کرتا رہا ہو اور ایسے خرچ میں بخیل کرتا رہا ہو جس میں اس کا نقصان نہ تھا (لعله تكلم بما لا يعنيه او بخل بما لا يعنيغيه، ترندی) اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ــ اللہ تمھاری صورتوں کو نہیں دیکھتا وہ تمھارے عمل کو دیکھتا ہے (ان الله لا ينظر الى صوركم ولكن ينظر الى اعمالكم) اسلامی سماج بے حد سنجیدہ سماج ہونا ہے۔ اس لئے وہاں کوئی شخص غیر ضروری کلام نہیں کرتا۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروری کاموں میں مشغول رکھے۔ اسلامی سماج میں اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ آدمی مانگ کر حاصل کرنے کے بجاے کر کے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آدمی نہیں سوچتا کہ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے وہ دھر چھین کر یا مطالبہ کر کے حاصل کروں بلکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ نے مجھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page