تعارف اسلام
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم الله الرحمن الرحيم ہر آدمی کی ایک سوچ ہوتی ہے جس کے تحت وہ زندگی اور کائنات کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ پھر اسی سوچ کے مطابق وہ کسی چیز کو سب سے اونچی جگہ دیتا ہے اور اس کو اپنی عقیدتوں اور تو جہات کا مرکز بناتا ہے۔ پھر اسی کے مطابق وہ ماحول کے اندر اپنا عمل کرتا ہے۔ ان تینوں چیزوں کو عقیدہ، عبادت اور کردار کہا سکتے ہیں۔ انھیں تینوں چیزوں کے مجموعہ کا نام دین ہے اور اس اعتبار سے ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی دین ہوتا ہے، خواہ وہ خدا پرست ہو یا غیر خدا پرست ۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی اس حقیقت واقع کو پانے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک قادر مطلق کا ارادہ کام کر رہا ہے۔ وہی اس کا خالق و مالک ہے۔ اسی کے یہاں ہر ایک کا حساب ہونے والا ہے۔ صحیح وہ ہے جو اس کے نزدیک صحیح ٹھہرے اور غلط وہ ہے جو اس کے یہاں غلط قرار پائے ۔ اس حقیقت کا پانا کسی ریاضیاتی فارمولے کا پانا نہیں ہے۔ وہ بندے کا اپنے خدا کو پانا ہے۔ یہ بے کچھ‘ کا " سب کچھ " کو پالینا ہے۔ اس لئے جو آدمی اس حقیقت کو پالے وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک اور ہی انسان بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی ایک ربانی سمندر میں نہا اٹھتی ہے۔ یہ ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کے دل دماغ کو پوری طرح اپنی پکڑ میں لے لیتی ہے۔ اس کا دیکھنا اور سننا خدا کی نظر سے دیکھنا اور سننا بن جاتا ہے۔ اس کے فکر و خیال کی دنیا اگر اب تک تاریک تھی تو اب اس کے اندر ایک نیا آفتاب جل اٹھتا ہے جو اس کی پوری ہستی کو روشن کر دیتا ہے ۔ اس نفسیاتی یافت کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمہ تن خدا کا ہو جاتا ہے ۔ وہ اس کی یاد میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی ہستی کو اس کے مقابلہ میں کھو دیتا ہے ۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے آگے جھک جاتا ہے ۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کا سلوک ایک بندہ خدا کا سلوک بن جاتا ہے ۔ جہاں لوگ انانیت دکھاتے ہیں وہاں وہ متواضع بن جاتا ہے۔ جہاں لوگ انتقاقی کارروائی کرتے ہیں وہاں وہ معاف کر دیتا ہے۔ جہاں لوگ ظلم پر اتر آتے ہیں وہاں وہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ جہاں لوگ اپنی ذات کے لئے کٹ جاتے ہیں وہاں وہ حق کی خاطر جرجاتا ہے۔ جہاں لوگ خود پا کر مطمئن ہو جاتے ہیں وہاں وہ دوسروں کو دینے کی فکر کرتا ہے۔ جہاں لوگ دنیا کی رونقوں کی طرف دوڑتے ہیں وہاں وہ آخرت کی چھپی ہوئی دنیا میں اپنے کم کر دیتا ہے ـــــــــ یہی وہ سچی زندگی ہے جو پیغمبر کے ذریعہ انسان کو بتائی گئی ہے ۔ جو لوگ اس طرح ایک خدا کو اپنا لیں وہ فطری طور پر باہم جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں۔ وہ اس بھلائی کو دوسروں تک بھی پہنچانے لگتے ہیں جس کو انھوں نے اپنے لئے اختیار کیا ہے ۔ ان کی باہر کی زندگی ان کی اندرونی زندگی کا عکس بن جاتی ہے۔ وحید الدین ۲۹ دسمبر ۱۹۸۰

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader