Urdu book · تعارف اسلام

عقیدہ خدا

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

جو شخص خدا کو پالے اس نے سب کچھ پالیا۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی چیز پانے کے لئے باقی نہیں رہتی۔ اس لئے جب کوئی شخص خدا کو پاتا ہے تو اس کی ساری توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ اس کے لئے خدا ایسا اٹھا خزانہ بن جاتا ہے جہاں وہ سب کچھ موجود ہو جو آدمی کو اپنی دنیا و آخرت کے لئے درکار ہے۔ ایک شخص "سیب" کھائے۔ مگر سیب کے کھانے سے اس کو نہ کوئی مزہ ملے اور نہ وہ اس کے جسم میں داخل ہو کر اس کو طاقت دے تو کہا جائے گا کہ اس نے سیب نہیں کھایا، اس نے سیب کی شکل کی کوئی چیز چبائی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ خدا کا بھی ہے۔ خدا کو پانا ہی پانا ہے جو آدمی کے لئے مزہ بن جائے۔ جب "خدا" کو پا کر بھی آدمی مزہ سے خالی رہے تو کہنا چاہئے کہ اس نے خدا کو نہیں پایا۔ اس نے کوئی اور چیز پائی ہے اور غلطی سے اس کو خدا سمجھ رہا ہے۔ وہ مٹی کا سیب چبا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں حقیقی سیب کھا رہا ہوں ۔ دنیا اپنی ابتدائی شکل میں صرف ایک قسم کا مادہ ہے۔ ساری دنیا ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ الفاظ دیگر ساری دنیا بے روح مادہ ہے۔ اس بے روح مادہ کو خدا بے شمار صورتوں میں جلوہ گر کر رہا ہے۔ اس بے روح مادہ سے خدا کہیں روشنی پیدا کر رہا ہے اور کہیں حرارت۔ کہیں وہ اس بے روح مادہ کو ہریانی میں تبدیل کر رہا ہے اور کہیں پانی کی روانی میں۔ کہیں وہ اس بے روح مادہ کو رنگ کی صورت میں ظاہر کر رہا ہے اور کہیں مزہ اور خوش بو کی صورت میں۔ کہیں اس بے روح مادہ سے حرکت کے کرشمے ظاہر ہو رہے ہیں اور کہیں کشش کے کرشمے۔ ایسے عجیب و غریب قدرت والے خدا کو پانا ایک خشک عقیدہ کو پانا نہیں ہو سکتا۔ ایسے خدا کو پانا تو یہ ہے کہ آدمی کی روح ایک اٹھارہ روشنی سے جگمگا اٹھے۔ وہ اس کے قلب کے لئے لطفِ لذت بن جائے۔ آدمی ایک عمدہ پھل کھاتا ہے تو وہ باغ باغ ہو جاتا ہے۔ ایک شخص ایک لطیف نغمہ سنتا ہے تو وہ ہمہ تن وجد میں آ جاتا ہے۔ کسی کے یہاں ایک خوبصورت بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ پھر خدا جو ساری خوبیوں کا سر چشمہ ہے، اس کا پانا کیاکسی کو بے قرار نہیں کرے گا، وہ محض ایک بے کیف واقعہ بن کر رہ جائے گا۔ خدا کو پانا یہ ہے کہ وہ ایک خوشبو ہو جس سے آدمی کا شامہ معطر ہو جائے۔ وہ ایک مزہ ہو جس سے اس کا ذائقہ لطف اندوز ہو۔ وہ ایک لطافت ہو جو اس کے لامسہ کو کیف سے بھر دے۔ وہ ایک حسن ہو جو اس کی بصارت کو ایک حیرت ناک نظارہ میں محو کر دے۔ وہ ایک ترنم ہو جو اس کے سامعہ کو ایسی لذت دے جس سے وہ کبھی سیر نہ ہو۔ جس خدا نے روشنی پیدا کی، کیسے ممکن ہے کہ اس کے اندر روشنی نہ ہو۔ جس خدا نے مزہ پیدا کیا کیسے ممکن ہے کہ اس میں مزہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام روشنیوں سے زیادہ روشن ہے۔ وہ تمام مزوں سے زیادہ مزہ والا ہے۔ کسی کو خدا کی قربت ملنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رنگت اور خوشبو کے ابدی چمنستان میں جا بسے، جیسے وہ ایک پیکر نور کے پُر دیس میں پہنچ جائے۔ خدا ساری حکمتوں کا خزانہ ہے، اس لئے خدا کو پاتا آدمی کو انتہائی باشعور بنا دیتا ہے۔ خدا سارے زمین و آسمان کا نور ہے، اس لئے خدا کو پانا آدمی کی پوری شخصیت کو ربانی نور سے جگمگا دیتا ہے۔ خدا تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے، اس لئے خدا کو پانا آدمی کو اتنا طاقت ور بنا دیتا ہے کہ کوئی سیلاب اس کو غرق نہ کر سکے اور کوئی طوفان اس کے درخت کو اکھاڑنے والا ثابت نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page