Urdu book · تبلیغی تحریک

تمہید

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

برکت سے رزق مل رہا ہے۔ اس لیے آئندہ اس قسم کی بات مجھ سے نہ کہی جائے ۔“ اخلاص اور دینداری کے اس ماحول کا نتیجہ یہ تھا کہ مولانا کی پرورش اس طرح ہوئی گویا وہ دین کے گہوارے میں پل رہے ہیں۔ ایسی حالت میں جذبات کا دین کی راہ پر مڑ جانا بالکل فطری تھا۔ مولانا کا ایک ہم درس بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ ان کے ساتھ مکتب میں پڑھتے تھے، ایک دن آپ لکڑی لے آئے اور کہا- ” آؤ میاں ریاض الاسلام ! چلو بے نمازیوں پر جہاد کریں!“ مکتب کی تعلیم سے فارغ ہو کر مولانا نے قدیم طرزِ پر عربی و دینی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد مدرسہ مظاہر العلوم ( سہارن پور ) میں استاد مقرر ہوئے۔ مگر قدرت کو منظور تھا کہ آپ کو اگلے مرحلہ کی تربیت گاہ میں پہنچایا جائے۔ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ آپ کے والد صاحب دہلی کے پاس بستی نظام الدین میں رہتے تھے۔ وہاں انہوں نے ایک چھوٹا سا مدرسہ جاری کیا تھا۔ جس میں کچھ غریبوں کے بچے پڑھنے آیا کرتے تھے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد آپ کے بھائی مولانا محمد صاحب نے اس مدرسہ کو سنبھالا ۱۳۳۴ھ میں ان کا بھی انتقال ہو گیا ۔ اس وقت جب آپ اس سلسلہ میں نظام الدین گئے تو وہاں لوگوں نے اصرار کیا کہ اب یہیں قیام کریں اور والد اور بھائی کی جگہ ، جو ان کی وفات سے خالی ہوئی ہے ، اس کو پر کریں۔ آپ نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔ یہاں سے آپ کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جب کہ میواتیوں سے تعلق کی وجہ سے آپ کو تبلیغی تحریک چلانے کی طرف توجہ ہوئی۔ تبلیغ کا ابتدائی محرک میواتی مسلمان بنے۔ اس کے بعد یہ کام دوسرے تمام مقامات پر پھیل گیا۔ میواتیوں میں کام دہلی کے جنوب کا وہ علاقہ جس میں قدیم زمانے سے میو قوم آباد ہے، میوات کہلاتا ہے۔ یہ تقریباً اسی قسم کی ایک قبائلی آبادی تھی جیسا کہ عرب کے قدیم بدؤوں کے سلسلے میں ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ ایک جاہل اور ابڈ قوم جو غالب حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خلفار و متبعین کی کوششوں سے مسلمان ہو گئی تھی۔ مگر عملاً وہ اسلام سے دور تھے۔ بجز اس خیال کے کہ ” ہم مسلمان ہیں “ اور کوئی اسلامی چیز ان کے اندر باقی نہیں رہی تھی ۔ وہ ماہر سنگھ اور بھوپ سنگھ جیسے نام رکھتے ، ان کے سروں پر چوٹیاں ہوتیں ، ان کے یہاں مورتیاں پوجی جاتیں ، وہ ہندوؤں کے تیوہار اور تقریبات مناتے ، دیوی دیوتاؤں کے نام پر قربانی چڑھاتے، شب برات میں ان کے یہاں سید سالار مسعود غازی کا جھنڈا اٹھتا تھا۔ مگر وہ بھی ایک بُت تھا جو پوجا جاتا تھا۔ انہیں کلمہ تک یاد نہ تھا۔ حتیٰ کہ نمازی صورت سے وہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page