تمہید
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
تو دنیا کا نظم ونفق کیسے تمہارے حوالے کر دیا جائے۔ ایمان والوں کو حکومت ارضی دینے سے تو منشار الہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی مرضیات اور اس کے احکام کو دنیا میں نافذ کریں تو تم جب اپنے حدود اختیار میں آج یہ نہیں کر رہے ہو تو دنیا کی حکومت تمہارے سپرد کر کے کل کے لیے تم سے اس کی کیا امید کی جاسکتی ہے“۔ تبلیغ میں قلم ایک نیاز مند سے (جن کو مولانا کے تبلیغی کام سے بھی تعلق تھا اور اس کے علاوہ تحریر و تصنیف ان کا خاص مشغلہ تھا) ایک دن مولانا نے فرمایا۔ " میں اب تک اس کو پسند نہیں کرتا تھا کہ اس تبلیغی کام کے سلسلے میں کچھ زیادہ لکھا پڑھا جائے اور تحریر کے ذریعہ اس کی دعوت دی جائے، بلکہ میں اس کو منع کرتا رہا۔ لیکن اب میں کہتا ہوں کہ لکھا جائے اور رقم بھی خوب لکھو۔ مگر یہاں کے فلاں فلاں کام کرنے والوں کو میری یہ بات پہجا پہنچا کر ان کی رائے بھی لے لو۔ چنانچہ ان نامزد حضرات کو مولانا کی بات پہونچا کر مشورہ طلب کیا گیا۔ ان صاحبان نے اپنی رائے یہ ظاہر کی کہ اس بارے میں اب تک جو طرز عمل رہا ہے، وہی اب بھی رہے۔ ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے۔ اس کے بعد مولانا کو یہ بات پہونچائی گئی۔ مولانا نے دوبارہ فرمایا۔ " ہم پہلے بالکل کس مپرسی کی حالت میں تھے ۔ کوئی ہماری بات سنتا نہیں تھا۔ اور کسی کی سمجھ میں ہماری بات آتی نہیں تھی ۔ اس وقت یہی ضروری تھا کہ ہم خود ہی چل پھر لوگوں میں پہلے طلب پیدا کریں۔ اور عمل سے اپنی بات سمجھائیں اس وقت اگر تحریر کے ذریعے عام دعوت دی جاتی تو لوگ کچھ کا کچھ سمجھتے۔ اور اپنے سمجھنے کے مطابق ہی رائے قائم کرتے اور اگر بات کچھ دل کو لگتی تو اپنی سمجھ کے مطابق کچھ سیدھی کچھ الٹی اس کی عملی تشکیل کرتے اور پھر جب نتائج غلط نکلتے تو ہماری اسکیم کو ناقص کہتے ۔ اس لیے ہم یہ بہتر نہیں سمجھتے تھے کہ لوگوں کے پاس تحریر کے ذریعہ ہماری دعوت پہونچے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہماری بہت سی جماعتیں ملک کے اطراف میں نکل کر کام کا طریقہ دکھلا چکی ہیں۔ اور اب لوگ ہمارے کام کے طالب بن کر خود ہمارے پاس آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اتنے آدمی دے دیئے ہیں کہ اگر مختلف اطراف میں طلب پیدا ہو اور کام سکھانے کے لیے جماعتوں کی ضرورت ہو تو جماعتیں بھیجی جا سکتی ہیں۔ تو اب ان حالات میں بھی کس مپرسی والے ابتدائی زمانہ ہی کے طریقہ کار کے ہر ہر جز پر جمے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ تحریک کے ذریعے بھی دعوت دینی چاہیے“۔ بعض مواقع پر مولانا نے اس کا بھی اظہار فرمایا کہ اس وقت جس قسم کے کارکن ہمارے گرد جمع ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader