تمہید
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
مولا نا الیاس رحمۃ اللہ علیہ ۱۹۴۲ء کی سردیوں کا ایک دن تھا۔ میں نارتھ ایسٹرن ریلوے کے ایک اسٹیشن پر اترا۔ کچھ دور آگے چلا تھا کہ سامنے نظر آیا کہ ایک پیدل فافلہ سڑک کو پار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قدیم وضع کا لباس، حلیہ سے دینداری اور سادگی نمایاں، بستر اور ضروری سامان کا بنڈل اپنے اوپر لادے ہوئے چلا جا رہا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہے جو اچانک زمین پر اتر آئی ہے۔ شاید مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کون لوگ تھے۔ کیونکہ یہ اب عام طور پر لوگوں کے لیے ایک مانوس منظر بن چکا ہے۔ ملک میں کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جنہیں کبھی نہ کبھی اس منظر سے سابقہ نہ پڑا ہو۔ اب اس طرح کی شکلیں دیکھ کر ہر شخص خود سمجھ جاتا ہے کہ یہ کن لوگوں کا قافلہ ہے اور کس مقصد کے لیے ادھر سے اُدھر سفر کر رہا ہے ۔ اس طرح کے بے شمار قافلے آج ساری دنیا میں اپنے قدموں کو دین کی راہ میں گرد آلود کر رہے ہیں۔ شاید ۲۴ گھنٹے میں کوئی وقت ایسا نہیں ہو گا جب کہ دین کی یہ نقل و حرکت کہیں نہ کہیں جاری نہ ہو۔ یہ عظیم حرکت جو تبلیغ کے نام سے چل رہی ہے اور جس نے آج لاکھوں انسانوں میں ایک نیا جوش اور نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، اس کا آغاز کرنے والا ایک ایسا شخص تھا جو اپنے لاغر جسم ، پستہ قد اور غیر نمایاں شخصیت کے ساتھ تکت کا بھی شکار تھا۔ اور مشکل سے اپنی کسی بات کو صاف طور پر ادا کر سکتا تھا۔ یہی وہ حیرت انگیز وجود ہے جس کو لوگ مولا نا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اس نے جو دینی نقل و حرکت پیدا کی ، اس کو عام زبان میں تبلیغی جماعت کہا جاتا ہے۔ مولانا اگر چہ جسمانی اعتبار سے کمزور اور دبے آدمی تھے۔ مگر اس کمزور جسم کے اندر ایک انتہائی طاقت ور چیز چھپی ہوئی تھی، اور وہ ہے لوگوں کو دین کی راہ پر ڈالنے کا بے پناہ جذبہ ۔ یہی چیز تھی جس نے ایک کمزور شخص سے وہ کام کرا دیا جو طاقتوروں سے نہیں ہو سکتا ۔ ابتدائی حالات انیسویں صدی کے آخر میں اگر کوئی شخص دہلی کی کسی اونچی عمارت پر چڑھے تو اس کو شہر کے باہر جنوبی سمت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader