Urdu book · طلاق اسلام میں

طلاق اسلام میں

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی جب ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کے لیے صرف ایک بار یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں نے تم کو اپنی زوجیت میں قبول کیا۔ مگر طلاق کے لیے شریعت میں یہ حکم دیا گیا کہ تین مہینہ کے دوران مرحلہ وار طریقہ پر بتدریج اس کو مکمل کرو۔ گویا نکاح کے لیے تو ایک قول کافی ہے مگر طلاق کے عمل کی تکمیل کے لیے کئی قول کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ نکاح کے برعکس، طلاق کے ایک قول اور دوسرے قول کے درمیان شریعت نے لمبا وقفہ (gap) دینا پسند کیا ہے۔ اس وقفہ کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ اس دوران شوہر اپنے فیصلہ پر اچھی طرح غور کرلے۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے اس کے بارہ میں بخوبی مشورہ کرے۔ حتیٰ کہ اس کے متعلقین کو یہ موقع بھی مل جائے کہ جب انھیں طلاق کے معاملہ کی خبر طے تو اس میں دخل دے کر وہ طرفین کو سمجھائیں اور طلاق کو روکنے کی کوشش کریں۔ یہ مقصد وقفہ کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے طلاق کو ایک باوقفہ عمل بنا دیا گیا۔ ان ساری پیش بندیوں کا واضح مطلب یہ ہے کہ جذباتی ابال کو ٹھنڈا کیا جائے اور اس طرح طلاق کے معاملہ کو اس کے آخری انجام تک پہنچنے سے روکا جائے ۔ کیوں کہ طلاق کسی بھی شخص کے لیے مسئلہ سے نجات کے ہم معنی نہیں ہے۔ طلاق اپنے انجام کے اعتبار سے صرف یہ ہے کہ آدمی ایک مسئلہ سے چھٹکارا حاصل کر کے اپنے آپ کو دوسرے شدید تر مسئلہ میں مبتلا کرلے۔ ۵۔ ان ساری پیش بندیوں کے باوجود کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بعض اوقات جہالت یا شدید غصہ کی وجہ سے معتدل انداز میں سوچ نہیں پاتا۔ وہ جوش میں آکر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی سے کہہ دیتا ہے کہ تم کو تین طلاق یا طلاق ، طلاق ، طلاق ۔ ایسے واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئے ۔ اور اب بھی پیش آتے ہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص ایسا کرے اس کے بارہ میں کیا فیصلہ کیا جائے ۔ یعنی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دے کر مذکورہ باوقفہ عمل جاری کرنے کی تلقین کی جائے۔ یا تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے۔ اس سلسلہ کی ایک رہنما حدیث یہاں درج کی جاتی ہے جس کو امام ابو داؤد اور دوسرے کئی محدثین نے نقل کیا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page