Urdu book · طلاق اسلام میں

طلاق اسلام میں

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

قد كانت لهم فيه اسوة فلو پس کیوں نہ اس کو ہم ان کے اوپر نافذ کر دیں۔ امضيناه عليهم فامضاء عليهم چنانچہ انھوں نے ان کے اوپر اسے نافذ (صحیح مسلم بشر ح النووی، ۷۰/۱۰) کہہ دیا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کا یہ عمل بظاہر قرآن وسنت کے طریقہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ شریعت کے عموم میں ایک وقتی استثناء کی مثال ہے نہ کہ شریعت کے عموم میں ترمیم کی مثال۔ خلیفہ دوم کے اس عمل سے شریعت کا مذکورہ مسئلہ نہیں بدلتا۔ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی میں حالات کی مکمل رعایت رکھی گئی ہے۔ شریعت کا ہر قانون ایک دائمی قانون ہے۔ مگر مسلمانوں کے حاکم کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی فرد کے کیس کی مخصوص نوعیت کی بنا پر اس کے حق میں ایک استثنائی فیصلہ کرے۔ تاہم حاکم کا یہ فیصلہ صرف ایک وقتی حکم ہو گا نہ کہ ابدی قانون۔ اس سلسلہ کی مختلف روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ دوم نے اپنے زمانہ کے جن چند افراد کیساتھ ایسا کیا وہ بطور شرعی مسئلہ نہیں تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک قسم کے انتظامی (executive order) کی تھی۔ انھوں نے حاکم کی حیثیت سے بعض متعین افراد کے لیے حکم بطورِ ندا یہ حکم جاری کیا تھا۔ چنانچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق منہ کے پاس ایسا کوئی آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاق دی تھی تو اس کو وہ اس کی سرکشی قرار دیتے اور اس کی پیٹھ پر کوڑا مارتے (عن انس ، ان عمر كان اذا أتى برجل طلق امرأته ثلاثا اوجع ظهره) فتح الباری ۲۷۵/۹ ۷۔ یہاں ایک اور پہلو کا اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس اضافہ کے بغیر یہ بات بالکل ادھوری رہے گی۔ وہ یہ کہ حضرت عمر نے جب تین طلاق کو تین طلاق قرار دینے کا مذکورہ استثنائی فیصلہ دیا تو ان کی حیثیت موجودہ زمانہ کے ایک بے اختیار عالم جیسی نہ تھی۔ بلکہ وہ مکمل طور پر ایک با اختیار حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ مسئلہ طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ جو م داس قسم کا غیر قرآنی طریقہ اختیار کرے اس کو وہ سزا دیں، اس کو اور کوئی زیادتی کرنے سے روک سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page