دل جیتنا
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بیچ میں ناخوش گواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ اونچ نیچ اور یہ فرق سماجی زندگی میں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ باقی رہیں گے۔ کسی حال میں انھیں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے زندگی اور کامیابی کا صرف ایک ہی ممکن راستہ ہے — "باوجو د" کے اصول کو اپنی پالیسی بنائے۔ وہ مخالفتوں کے باوجود لوگوں کو اپنا موافق بنانے کی کوشش کرے۔ وہ نا خوش گواریوں کے باوجود اپنے لیے خوشگو ارزندگی کا راز در یافت کرے ۔ اس کے خلاف عداوتیں اور سازشیں کی جائیں تب بھی وہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھے کہ وہ اپنے مثبت عمل سے تمام منفی باتوں کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو کانٹے کے باوجود پھول تک اپنا ہاتھ پہنچانا ہوتا ہے ۔ یہاں بیماریوں کے بے شمار جراثیم کے باوجود اپنے آپ کو تندرست اور صحت مند بنانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ناموافق حالات کو دیکھ کر مایوس نہ ہو۔ اور نہ شکایت اور احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرے ۔ وہ ان حقائق سے موافقت کر کے جیے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ وہ راستہ کے ان پتھروں سے کترا کر نکل جائے جو اس کے سفر میں حائل ہو رہے ہوں۔ لوگوں کی مخالفانہ باتوں پر مشتمل ہونے کے بجائے وہ تدبیری حکمت کے ذریعہ ان سے نپٹنے کی کوشش کرے ۔ وہ کم ملنے پر راضی ہوتا کہ آئندہ اس کو زیادہ دیا جائے ۔ وہ دشمنی پر صبر کرے تا کہ آج جو اس کے دشمن ہیں کل وہ اس کے دوست بن جائیں۔ تدبیر نہ کہ ٹکراؤ مولانا جلال الدین رومی (1273-1207) کا درجہ مسلمانوں میں بہت اونچا ہے۔ تقریباً 26 ہزار اشعار پر مشتمل ان کی مثنوی معنوی مسلمانوں کے درمیان تقدس کی حد تک مقبول ہے۔ یہ مثنوی صدیوں تک ایک رہنما کتاب کی حیثیت سے علماء کے درمیان پڑھی جاتی رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader