تعمیر حیات
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
جب یہ ابتدائی کام ہو جاتا ہے تو اس کے بعد سارا معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔ اب ایک ایسا کشادہ راستہ لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ انسانی قافلے بڑی تعداد میں اس پر سفر کر سکیں۔ کسان جب زمین میں ایک بیج ڈالتا ہے تو وہ گویا زراعت کی طرف ایک "چھوٹا قدم" ہوتا ہے تاہم اس چھوٹے قدم کے ساتھ ہی کسان کے زرعی سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ سفر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ اس کے کھیت میں ایک پوری فصل کھڑی ہوئی نظر آئے۔ یہی طریقہ تمام انسانی معاملات کے لیے درست ہے، خواہ وہ زراعت اور باغبانی کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ۔ چیلنج نہ کہ ظلم آئرش رائٹر اور سیاست داں ایڈمنڈ برک (Edmund Burke, 1729-1797) کا قول ہے کہ جو شخص ہم سے لڑتا ہے وہ ہمارے اعصاب کو مضبوط کرتا ہے اور ہماری استعداد کو تیز بناتا ہے۔ ہمارا مخالف ہمارا مددگار ہے: He that wrestles with us, strengthens our nerves, and shapens our skill. Our antagonist is our helper. یہ عین وہی بات ہے جو شیخ سعدی نے گلستاں کی ایک کہانی کے تحت تمثیلی طور پر اس طرح کہی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ بلی جب عاجز ہو جاتی ہے تو وہ اپنے چنگل سے شیر کی آنکھ نکال لیتی ہے: نہ بینی کہ چون گربه عاجز شود بر آر د به چنگال چشم پلنگ دوسروں کی طرف سے آپ کے خلاف کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کے ردِ عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس کو ظلم سمجھیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اس کو چیلنج قرار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader