دشمن میں دوست
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اس سے زیادہ بڑی جگہ اپنے لیے حاصل کرلی ۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے ۔ یہاں کامیاب وہ ہوتا ہے جو گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی صلاحیت کا ثبوت دے سکے ۔ اگر ایک میدان میں آپ کو مواقع نہ ملیں تو دوسرے میدان میں محنت شروع کر دیجیے ۔ عین ممکن ہے کہ آپ دوسرے میدان میں وہ سب کچھ پالیں جس کی امید آپ پہلے میدان میں کیے ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر سالم علی (1987-1896) کو علم طیور (Ornithology) میں غیر معمولی مقام ملا ۔ ہندوستان نے ان کو پدما بھوشن کا خطاب دیا۔ برطانیہ نے ان کو گولڈ میڈل سے نوازا۔ ہالینڈ نے ان کو گولڈن آرک عطا کیا۔ عالمی ادارہ وائلڈ لائف نے ان کو انعام کے طور پر 50 ہزار ڈالر دیے ۔ ہندوستان کی تین یونیورسٹیوں نے اعزازی طور پر ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی ۔ وہ راجیہ سبھا کے ممبر بنائے گئے وغیرہ ، ڈاکٹر سالم علی کو یہ غیر معمولی کامیابی ایک غیر معمولی ناکامی کے ذریعہ حاصل ہوئی ۔ وہ بمبئی کے ایک گنجان علاقہ کھیت واڑی میں پیدا ہوئے ۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھیں روزگار کی ضرورت ہوئی ۔ مگر جب وہ روزگار کی تلاش میں نکلے تو ان کے الفاظ میں ” ہر ادارے اور ہر دفتر میں ان کے لیے جگہ نہیں (no vacancy) کا بورڈ لگا ہوا تھا ۔“ اس ناکامی نے ان کے لیے نئی کامیابی کے راستے کھول دیے ۔ ایک روز انھوں نے ایک چھوٹی چڑیا پکڑی ۔ اس کو دیکھا تو اس میں ایک غیر معمولی خصوصیت نظر آئی ۔ اس کی گردن پیلے رنگ کی تھی ۔ انھوں نے اس کی تحقیق شروع کر دی ۔ انھوں نے علم طیور کے موضوع پر بہت سی کتابیں پڑھ ڈالیں ۔ ان کی دل چسپی بڑھتی گئی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے ایک دستی دور بین حاصل کی ۔ اب ان کا کام یہ ہو گیا کہ ادھر اُدھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader