Urdu book · تعمیر حیات

دماغی اضافہ

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

رمن کا یقین تھا کہ سائنس دماغ سے آتی ہے، نہ کہ سازوسامان سے۔ ان کے ایک شاگرد نے ایک بار شکایت کی کہ اس کے پاس ریسرچ کا کام کرنے کے لیے صرف ایک کلوواٹ کا لیمپ ہے، جب کہ بیرونی ملکوں میں اس کے برابر کے ایک طالب علم کے پاس 10 کلوواٹ کا لیمپ ہوتا ہے۔ رمن نے اس طالب علم کو جواب دیا کہ تردد نہ کرو تم اپنے مسئلہ کی تحقیق میں 10 کلوواٹ کا دماغ رکھ لو۔ یہ بات نہایت درست ہے۔ اس دنیا میں ہر کام کا تعلق دماغ سے ہے۔ سامان کی کمی کو دماغ سے پورا کیا جا سکتا ہے مگر دماغ کی کمی کو سامان سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ دو سو سال اور تین سو سال پہلے مغرب میں جو سائنس داں پیدا ہوئے، ان میں سے کسی کے پاس وہ اعلیٰ سامان نہیں تھا جو آج کسی یونیورسٹی میں ایک ریسرچ طالب علم کے پاس ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے کم سامان کے ساتھ کام کیا۔ مثلاً نیوٹن نے کروسین کے لیمپ کے ذریعہ کام کیا، کیوں کہ اس وقت بجلی کا استعمال ہی شروع نہ ہوا تھا، وغیرہ۔ مگر یہی سائنس داں تھے جنھوں نے جدید مغربی سائنس کی بنیادیں قائم کیں۔ اس اصول کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ جب بھی کسی شخص کو محسوس ہو کہ اس کے پاس سرمایہ یا وسائل یا سازوسامان کی کمی ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دماغی محنت کو بڑھائے۔ اس کی دماغی محنت اس کے لیے ہر دوسری کمی کی تلافی بن جائے گی۔ فطرت نے دماغ کی صورت میں انسان کو حیرت انگیز طاقت دی ہے۔ دماغ کو استعمال کر کے آدمی اپنی ہر کمی کی تلافی کر سکتا ہے۔ مسٹر کمال علیک (پیدائش 1958) نے یکم فروری 1989 کی ملاقات میں اپنا ایک واقعہ بتایا۔ وہ پہلے سگریٹ پیتے تھے۔ 1984 سے انھوں نے مکمل طور پر سگریٹ کو چھوڑ دیا ہے۔ 1974 سے 1981 تک وہ تعلیم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page