Urdu book · تعمیر حیات

صحیح سبق لیجیے

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح سبق لیجیے باغ میں گلاب کا ایک پیڑ ہے۔ اس کی شاخوں میں پھول اگے ہوئے ہیں اسی کے ساتھ اس کی شاخوں میں کانٹے بھی ہیں۔ پھول کے ساتھ کانٹے کو دیکھ کر ایک شاعر کہتا ہے: حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری یہ صحیح ہے کہ فطرت کی دنیا میں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ مگر کانٹوں کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ پھول کی متشددانہ چوکیداری کرے ۔ یہ شاعر کی اپنی خیال آرائی ہے، نہ کہ فطرت کا مطلوب سبق۔ پھول کے ساتھ کانٹے کو پیدا کر کے فطرت جو سبق دینا چاہتی ہے وہ زیادہ صحیح طور پر یہ ہے کہ دنیا میں خوشگوار چیزوں کے ساتھ ناخوشگوار چیزیں بھی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دونوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ پیدا کرے ۔ ایک اور شاعر نے یہی دوسرا سبق لیتے ہوئے اس طرح کہا ہے: گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کیے جار ہاہوں میں زندگی اسی نباہ کے آرٹ کا دوسرا نام ہے۔ جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ پھول کو دیکھ کر خوش ہو اور کانٹے کو دیکھ کر غصہ کرے وہ موجودہ دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کا مزاج فطرت کے نقشہ کے خلاف ہے اور جو مزاج فطرت کے نقشہ کے خلاف ہو اس کے لیے موجودہ دنیا میں کامیابی مقدر نہیں۔ پھول کا حسن خود اس کی چوکیداری ہے۔ پھول کا حسین اور خوشبو دار ہونا یہی اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ وہ دنیا کے باغ میں اپنے لیے ایک بہتر جگہ پائے ۔ وہ دشمنوں کی دشمنانہ کارروائیوں سے پوری طرح محفوظ رہے۔ اسی طرح اگر انسان اپنے اندر کوئی ممتاز خوبی پیدا کرلے تو وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ دنیا کے اندر پھول کی طرح جیئے ۔ کانٹوں کی طرف سے اس کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page