Urdu book · تعمیر حیات

بڑیائی کا راز

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑائی کا راز زمین کے اوپر بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔ ایورسٹ کی چوٹی زمین سے ساڑھے پانچ میل اوپر ہے۔ اتنے بڑے پہاڑ زمین پر کیوں قائم ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ بقیہ چیزوں کے سامنے اپنی بڑائی کا مظاہرہ کریں۔ حتی کہ پہاڑ اپنا سایہ زمین پر ڈال کر یہ اعلان کر رہا ہے کہ بڑا بننے سے اس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کو تواضع پسند ہے، نہ کہ فخروناز۔ پہاڑ کا زمین پر قائم ہونا خدمت کے لیے ہے، نہ کہ عظمت کے لیے۔ وہ زمین کے چاروں طرف اس لیے قائم ہے تاکہ زمین کو متوازن رکھ سکے۔ زمین کے دو تہائی حصے میں گہرے سمندروں کی بنا پر یہ اندیشہ تھا کہ زمین اپنا توازن کھودے گی اور انسان کے لیے ناقابل رہائش بن جائے گی۔ چنانچہ زمین کی خشکی والے حصوں میں پہاڑ ابھر آئے تا کہ نشیب وفراز کے دو طرفہ عمل سے زمین کے توازن کو برقرار رکھیں۔ یہ دنیا کے لیے فطرت کا ایک مقرر اصول ہے۔ یہاں بہت سی چیزیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو فطرت کی طرف سے کوئی امتیازی خصوصیت دی گئی ہے۔ مگر یہ امتیازی خصوصیت اس لیے نہیں ہے کہ ایک چیز اپنے آپ کو دوسری چیز سے بڑا سمجھے۔ ایک چیز دوسری چیز کے اوپر فخر کرے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک اپنی خدمت کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ادا کرے۔ یہی مزاج انسان کو بھی اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ انسان کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا ہے کہ مختلف انسانوں کو مختلف امتیازی صفتیں دی گئیں ہیں۔ یہ امتیازی صفتیں صرف امتیازی کارکردگی کے لیے ہیں۔ وہ اس لیے نہیں ہیں کہ کوئی انسان ان کو پا کر خود پسند بن جائے اور دوسروں کے اوپر اپنی بڑائی جتانے لگے۔ متوازن انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جاننے کے ساتھ دوسروں کو بھی جانے اور ان کا اعتراف کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page