یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
منظور کیا گیا جس کی رو سے اسٹیٹ کو یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ کسی بھی شخص کی نجی ملکیت کو جبراً اپنے قبضہ میں لے لے۔ اس ایکٹ کی رو سے مالک جائیداد کو اس حق سے بھی محروم کر دیا گیا کہ سرکاری معاوضہ اگر اس کو مارکیٹ کی شرح سے کم معلوم ہو تو وہ عدالت میں اس کے خلاف استغاثہ دائر کر سکے۔ اسی طرح ابتدائی دستور میں سابق راجاؤں کو طرف خاص (privy purses) کا حق دیا گیا تھا مگر ۱۹۷۱ میں دستور میں ۲۶ ویں ترمیم کی گئی جس کی رو سے اس دفعہ کا خاتمہ کر دیا گیا اور طرف خاص کے سلسلہ میں ان کو دیے ہوئے تمام دستوری حقوق کو یکسر ساقط کر دیا گیا۔ وغیرہ۔ ان نظائر کی روشنی میں یہ بات کسی بھی درجہ میں انوکھی نہیں ہے کہ ایک اور ترمیم کے ذریعہ دستور ہند کی دفعہ ۴۸ کو کامل طور پر حذف کر دیا جائے ۔ اس کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا۔ البتہ ہمارا دستور ایک ایسے بوجھ سے ہلکا ہو جائے گا جو غیر ضروری طور پر اس کے اوپر لاد دیا گیا تھا۔ یونی کلچریشن یا ملٹی کلچریشن ہندوستان میں پچھلے سو سال سے دو مختلف سیاسی گروپ موجود رہے ہیں اور آج بھی وہ الگ الگ ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک وہ جو سیکولر آئیڈیالوجی پر ملک کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اور دوسرا وہ جو ہندو آئیڈیالوجی پر ہندوستانی سماج کو ڈھالنا چاہتا ہے۔ دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان میں تمام لوگوں کے لیے یکساں سول کوڈ بنایا جانا چاہیے۔ لیکن اگر غیر جانبدارانہ انداز سے دیکھا جائے تو یونیفارم سول کوڈ دونوں ہی کے نظریات کے خلاف ہے۔ اگر وہ اپنے نظریہ میں مخلص ہوں تو ہرگز انھیں اس قسم کے تصور کی حمایت نہیں کرنا چاہیے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے ۔ مذہب کے معاملہ میں اسٹیٹ کا عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرنا۔ لوگوں کو اپنے عقیدہ و مذہب کی آزادی دیتے ہوئے صرف مشترک دنیوی امور کا انتظام وانصرام کرنا۔ یہی سیکولرزم کا عالمی سطح پر متفقہ مفہوم ہے اور اسی مفہوم کے مطابق دستور ہند کی تشکیل کی گئی ہے۔ کچھ لوگ سیکولرزم کی تشریح اس طرح کرتے ہیں گویا کہ وہ خود ایک مذہب ہے اور تمام مروج مذہب کو ختم کر کے نجی دائرہ سے لے کر اجتماعی دائرہ تک زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے دائر میں لینا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader