Urdu book · تعمیر انسانیت

یکساں سول کوڈ

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

اضافہ آباد کاری کاہوا متعدد سینیر شہریوں نے یہ بات کہی ہے کہ شادی بیاہ کا معاملہ انتہائی نجی معاملہ ہے۔ اگر کوئی کمیونٹی چاہتی ہے کہ اس نجی معاملہ میں وہ اپنے روایتی طریقہ پر قائم رہے تو اس میں دوسری کمیونٹی والوں کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت۔ اس واضح نامعقولیت کے باوجود کچھ انتہا پسند پولینکل عناصر کیوں یونیفارم سول کوڈ لانے کے لیے اتنا زیادہ شور وغل کر رہے ہیں، حتی کہ انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں ان کا اصل انتخابی ایشو (main poll theme) یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ ہوگا دی ہندوستان ٹائمز ، ۱۴ جولائی ۱۹۹۵) جب کہ یقینی طور پر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یونیفارم سول کوڈ کی بنیاد پر قانون بنانے کا عملاً کوئی امکان نہیں۔ اس جوش و خروش کا سبب خود یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ عناصر انتہائی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت یہ غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگلی صدی کے نصف اول میں یہ واقعہ ہونے والا ہے کہ مسلمان یہاں اکثریت میں ہو جائیں اور ہندو خود اپنے ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں۔ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے لیے انہوں نے ایک پر فریب نظریہ وضع کیا ہے۔ وہ اکثریتی فرقہ کے عوام سے کہتے ہیں کہ دیکھو، آزادی کے بعد بننے والی گورنمنٹ نے ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵ کے ذریعہ ہندوؤں کو تو قانونی طور پر پابند کر دیا کہ وہ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا جو پرسنل لا ایکٹ (۱۸۶۰) ہے، اس کے تحت ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ چار بیویاں رکھے۔ ہندو کے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے، مگر مسلمان کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو کے مقابلہ میں مسلمان چار گنا زیادہ بچے پیدا کر سکتا ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں کی آبادی اگر ۱-۲-۳-۴-۵ کی رفتار سے بڑھے گی تو مسلمانوں کی تعداد ۱-۳-۸-۱۴-۳۲ کی رفتار سے بڑھتی چلی جائے گی۔ اپنے سیاسی حریف کی اس طرح بھیانک تصویر دکھا کر یہ لوگ ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں۔ وہ ہندو عوام سے کہہ رہے ہیں کہ اس ہندو درو دھی سرکار کے خلاف ووٹ دے کر اس کو باہر پھینک دو : Throw out this anit-Hindu government. یہ پروپیگنڈا بلاشبہ آخری حد تک بے بنیاد ہے۔ مسلمان عام طور پر ایک ہی شادی کرتے ہیں۔ میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page