یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
مساوات نہیں ایجڈسٹمنٹ ۱۹۵۴ء میں ہندستانی پارلیمنٹ نے اسپیشل میرتج ایکٹ منظور کیا تھا۔ اس کے مطابق، مرد اور عورت کسی مذہبی رسم کی ادائیگی کے بغیر مخصوص کورٹ میں جاتے ہیں اور ایک مجسٹریٹ کے سامنے اقرار کر کے ایک دوسرے کے قانونی میاں اور بیوی بن جاتے ہیں۔ کامن سول کوڈ اگر سیکولر اصول پر بنایا جائے تو وہ موجودہ اسپیشل میرتج ایکٹ ہی کی ایک تو سیع ہوگی۔ میں نے دہلی میں تحقیق کی کہ یہاں کتنے لوگ ہیں جنھوں مذکورہ ایکٹ کے تحت اپنی شادی کی ہے۔ کافی تلاش و تحقیق کے بعد مجھے صرف دو آدمی ملے۔ ایک ہندو اور ایک مسلمان۔ یہ دونوں کسی مذہبی رسم کے بغیر سادہ طور پر کورٹ میں گئے اور وہاں اپنا نکاح رجسٹر کرا لیا۔ مگر چند ہی سال کے بعد دونوں شادیاں ٹوٹ گئیں اور اب مرد و عورت دونوں الگ الگ رہتے ہیں۔ میں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس علحدگی کا سبب ” ایگو ازم “ تھا۔ دونوں میں اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکرار ہو جاتی۔ یہ تکرار بڑھتے بڑھتے مستقل علحدگی تک پہنچ گئی۔ مساوات مرد و زن کا جدید نظریہ کا غذ پر بہت اچھا لگتا ہے۔ مگر زندگی میں سب سے زیادہ جس چیز کی اہمیت ہے وہ ایجڈسٹمنٹ ہے نہ کہ مساوات۔ مساوات کا تصور حقوق طلبی کا مزاج بناتا ہے اور ایجڈسٹمنٹ کا تصور حقوق کی ادائیگی کا۔ یہی وجہ ہے کہ مساواتی ذہن کے مرد و عورت اکثر لڑاکرا کر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں، اور ایجڈسٹمنٹ کا ذہن رکھنے والے کامیاب گھر کی تعمیر کرتے ہیں۔ میں نے جاپان کے بارہ میں ایک کتاب پڑھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپانی عورت اور مرد کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ میں کسی کے ماتحت ہوں (I am under someone)۔ اپنے اس احساس کی بنا پر جاپانی انسان ہمیشہ فریق ثانی سے ایجڈسٹ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی عورت سب سے زیادہ بری بیوی ہے اور جاپانی عورت سب سے زیادہ اچھی بیوی۔ اس کا راز یہی ہے۔ امریکی عورت پر سب سے زیادہ جو خیال مسلط ہوتا ہے وہ برابری کا تصور ہے۔ اس کے برعکس جاپانی عورت برابری اور نابرابری کی بحث سے اوپر اٹھ کر صرف یہ احساس لیے ہوتی ہے کہ مجھے موافقت کے اصول پر زندگی گزارنا ہے۔ اسی لیے ازدواجی زندگی میں امریکی عورت ناکام رہتی ہے اور جاپانی عورت کامیاب۔ اچھا خاندان بنانے کے لیے ہمیں سب سے زیادہ ایجڈسٹمنٹ پر زور دینا ہے نہ کہ مغربی تصور کے مطابق مساوات پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader