اصلاح کی طرف
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
ذاتی انٹرسٹ کا موقع پیدا ہوتا ہے ۔ ان کی حد آ جاتی ہے ۔ وہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر اخلاقی اصول کو بھول جاتے ہیں ۔ ایک شخص سرکاری دفتر میں کلیدی عہدہ (Key post) پر تھا۔ اس کے یہاں ایک صاحب کی فائل تھی ۔ ان کا کیس بالکل جائز کیس تھا مگر وہ ان کو پریشان کر رہا تھا تاکہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت میں دیں ۔ یہ صاحب اپنے جاننے والے ایک شخص سے ملے جن کے متعلق ان کو پتہ تھا کہ وہ مذکورہ سرکاری ملازم کے دوست ہیں ۔ ان سے اپنی مصیبت بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ بہت اچھا میں اس سے ملوں گا ۔ یہ صاحب ایک روز مذکورہ سرکاری ملازم کے یہاں گیے ۔ ملازم خندہ پیشانی سے ملا ۔ اس نے چائے اور سگریٹ پیش کیا۔ مگر جب آنے والے نے اس سے اپنی ضرورت بیان کی تو فوراً اس کا چہرہ بدل گیا ۔ طرح طرح کی قانونی موشگافیاں بتا کر اس نے عذر کر دیا۔ وہ مذکورہ شخص کو جان بوجھ کر صرف اس لیے پریشان کر رہا تھا کہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت کے طور پر دے ۔ ایسی حالت میں رقم لیے بغیر وہ فائل کیسے واپس کر دیتا ۔ مذکورہ سرکاری افسر ابتداً با اخلاق تھا۔ مگر جب فائل کا مسئلہ طے کرنے کی بات آئی تو اس کے اخلاق کی حد آگئی ۔ وہ صرف اس وقت تک با اخلاق تھا جب تک اس کے ذاتی مفاد پر زد نہ پڑ رہی ہو ۔ جب ذاتی مفاد خطرے میں آ جائے تو پھر اس کے نزدیک اخلاق کی کوئی قیمت نہ تھی ۔ مغربی ملکوں میں بظاہر اس قسم کی بداخلاقی نہیں ہے ۔ وہاں دفتروں میں بغیر رشوت کے کام ہوتا ہے ۔ عام طور پر لوگ اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام دیتے ہیں۔ پولیس کا آدمی کسی کو ناجائز کام کرتے ہوئے پکڑے تو اس آدمی کو معلوم ہے کہ وہ پولیس والوں کی جیب میں نوٹ ڈال کر ان کی گرفت سے نہیں بچ سکتا ۔ روزمرہ کی زندگی میں جو بدعنوانیاں (Corruption) ہمارے ملک میں نظر آتی ہیں وہ مغربی ملکوں میں عام طور پر دکھائی نہیں دیتیں ۔ تاہم یہ اخلاق قومی مفاد کی بنیاد پر ہے اس لیے اس کی بھی حد آ جاتی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader