Urdu book · تعمیر انسانیت

نمونہ انسانیت

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر دور میں تمام سوچنے والے انسانوں کا محبوب ترین مقصود یہ رہا ہے کہ وہ ایک ایسا انسانی نظام بنائیں جہاں حق کا غلبہ ہو، جہاں ہر ایک کو انصاف ملے۔ جہاں معاشی استحصال نہ ہو۔ جہاں ہر انسان کو عزت کی زندگی حاصل ہو۔ جہاں اعلیٰ انسانی قدروں کو فروغ ملے۔ اس قسم کا سماج بنانے کا دعویٰ تو بہت سے لوگوں نے کیا مگر عملی طور پر وہ اپنی کامل صورت میں صرف ایک بار قائم ہو سکا اور یہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے زمانہ میں ہوا۔ اسلام کی پہلی جنریشن میں پیش آنے والا یہ واقعہ گویا تمام انسانیت کے لئے ایک نمونہ ہے۔ اب ہر دور کے انسانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس نمونہ کو دیکھیں اور اس نمونہ کی روش میں اپنی زندگی کا نظام بنائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page