اسلام تغییر پذیر دنیا میں
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
دہ چیز جس کو زمانہ کی تغیر پذیری کہا جاتا ہے، اس کے دو حصے ہیں۔ حقیقی تغیر اور اضافی تغیر۔ حقیقی تغیر یہ ہے کہ ماضی کے کسی غلط تصور کو غلط پا کر اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس قسم کا تغیر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، اسلام کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ اور جہاں تک اضافی تغیر کا سوال ہے، وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ حالات کے بدلنے کے ساتھ وہ خود بدل جاتا ہے۔ پہلے قسم کے تغیر کی مثال وہ توہمات ہیں جو قدیم زمانہ میں انسانی سماج کے اندر رائج تھے۔ مثلا بعض بیماریوں کو دیوتاؤں کے اثر کا نتیجہ سمجھنا۔ جدید دور نے اس عقیدہ کو باطل ثابت کیا اور تمام بیماریوں کو میڈیکل سائنس کے تابع کر دیا۔ یہ اصول پیشگی طور پر اسلام میں موجود تھا۔ اس لئے یہ تغیر خود اسلام کے اصول کو از سر نو زندہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ دوسرے قسم کے تغیر کی ایک مثال عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ جنسی تعلق کا جدید نظریہ ہے۔ مگر سائنسی تحقیقات اس قسم کی آزادی کو غلط ثابت کر رہی ہیں۔ مثلا اس طرح کے عمل کے نتیجہ میں خطرناک بیماریوں کا پیدا ہونا۔ چنانچہ عملی تجربہ کے بعد اب خود سیکولر حلقہ میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس بنا پر یقینی ہے کہ اس معاملہ میں دوبارہ اسلام کے اصول کو اختیار کر لیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام تغیر پذیر دنیا میں ایک غیر متغير حقیقت ہے۔ نظری تجزیہ اور عملی تجربہ دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader