مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ملک میں جو گروہ اقلیت میں ہو اس کو عین قانون فطرت کے تحت اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا پیش آتا ہے۔ یہ صورت حال ایک طرف اقلیتی گروہ کی صلاحیتوں کو بیدار کر کے اس کو فعال بناتی ہے۔ دوسری طرف اکثریتی گروہ چیلنج سے محفوظ ہونے کی بنا پر غیر فعال ہوتا چلا جاتا ہے، اس کو وہ مہمیز نہیں ملتی جو اس کی صلاحیتوں کو بیدار کرے۔ یہ صورت حال مکمل طور پر اقلیتی گروہ کے حق میں ہوتی ہے۔ اب اگر اقلیتی گروہ اتنا کمزور نہ ہو کہ حالات کے دباؤ کے تحت وہ کچل کر رہ جائے تو یہی وہ تاریخی گروہ بن جاتا ہے جو نئی تہذیب پیدا کرے اور انسانیت کو ایک نئے اور بہتر مستقبل کی طرف لے جائے۔ ایک قرآنی آیت آرنلڈ ٹوائن بی نے جو بات کہی ہے وہ صرف ایک مورخ کا نقطہ نظر نہیں ہے۔ وہ خود فطرت کا ایک اٹل قانون ہے جس کو ایک مورخ نے تاریخ کے مطالعہ کے ذریعہ دریافت کیا ہے۔ فطرت کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے... کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرہ ۲۴۹) How often has a small group prevailed aga inst a large group by the sanction of God. And God is with the people of patience. اس آیت میں اذن سے مراد فطرت کا وہ قانون ہے جو خدا نے انسانوں کے درمیان ابدی طور پر قائم کر رکھا ہے۔ اس قانون کو قرآن میں دوسری جگہ عسر کے ساتھ یسر اور یسر کے ساتھ عسر (الانشراح) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ زیر بحث موضوع کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس گروہ کو عددی برتری حاصل ہو وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ محنت کے بغیر ہی اس کو سب کچھ حاصل ہو جائے گا۔ یہ نفسیات اس کے اندر ذہنی اور عملی جمود پیدا کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ پوری قوم آرام طلبی اور کاہلی کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دینے کے قابل نہیں رہتی۔ اس کے بر عکس جو گروہ عددی اور سماجی حیثیت سے اپنے کو کمتر محسوس کرے وہ عین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader