Urdu book · تعمیر انسانیت

توحید۔ انسانیت کی منزل

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی توجعات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لئے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انھیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انھیں کی طرف دوڑتا ہے اور ناکامی میں بھی وہ انھیں کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورتِ حال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پاتار ہتا ہے تو مشرک انسان کے لئے اس کے تجربات مشرکانہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ آدمی ہر لمحہ کچھ حالات کے درمیان جیتا ہے۔۔۔ خوشی کے حالات یا غم کے حالات، تکلیف کے حالات یا آرام کے حالات، کامیابی کے حالات یا ناکامی کے حالات، اختیار و اقتدار کے حالات یا بے اختیاری کے حالات، غلبہ کے حالات یا مغلوبیت کے حالات، موافق حالات یا غیر موافق حالات۔ ان مختلف حالات میں ایک رویہ (response) موحدانہ رویہ ہے اور دوسرا رویہ مشرکانہ رویہ۔ موحد انسان خدا کی عظمت میں جی رہا ہو تا ہے اس لئے اس کی زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلا تا رہتا ہے۔ اس کا رویہ ہر موقع پر وہی ہو تا ہے جو اس کے عقیدہ توحید کے مطابق ہو۔ وہ ہر صورت حال میں ایک سچا خدا پرست انسان ثابت ہو تا ہے۔ وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اپنے اعتدال کو نہیں کھوتا۔ وہ خواہ جس حال میں ہو، ہمیشہ اپنے خدا سے وابستہ رہتا ہے۔ خدا اس کی تمام توجعات کا مرکز بن جاتا ہے، وہ کسی بھی حال میں اس سے نہیں ہٹتا۔ توحید خدا کی نظر میں سب سے زیادہ باقیمت چیز ہے اور شرک خدا کی نظر میں سب سے زیادہ بے قیمت چیز۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق اس انتہائی مخصوص چیز سے ہے جو انسان کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ اور وہ ہے کسی سے گہرا قلبی تعلق۔ یہ انسان کی سب سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page