توحید۔ انسانیت کی منزل
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
شرک سے ڈرائیں اور انہیں توحید کی تعلیم دیں، تاکہ انسان اس کے مطابق، اپنی زندگی کی اصلاح کرے اور دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکے۔ مگر انسانیت کی لمبی تاریخ میں تقریباً پیغمبر کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد نے ان کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ خاص طور پر سماج کے بڑے لوگ کبھی پیغمبر کو ماننے یا ان کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس تاریخی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے ۔۔۔ افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے (يسين: ۳۰) خدا کے پیغمبروں کو نظر انداز کرنے کا یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ پچھلے دور میں آنے والے پیغمبروں کو انسانی تاریخ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی کی مدون - تاریخ میں بادشاہوں کی داستانیں تو پڑھتے ہیں مگر پیغمبروں کا مذکورہ مدون تاریخ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس معاملہ میں صرف پیغمبر اسلام ﷺ کا واحد استثنا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی۔ چنانچہ آپ نے پہلی بار ردِ شرک اور اثبات توحید کی تحریک کو ایک ایسی زندہ تحریک بنایا جس نے اس تحریک کو فکری مرحلہ سے اٹھا کر عملی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچادیا اور اس کی ایک مستقل تاریخ بنادی۔ ردِ شرک اور اثبات توحید کی یہ تحریک قدیم زمانہ میں کیوں عملی انقلاب کے درجہ تک نہ پہنچ سکی۔ اس کا سبب خاص طور پر دو تھا۔ ایک بادشاہت کا نظام، دوسرے، توہماتی افکار کا غلبہ۔ یہی دو بنیادی اسباب تھے جو پیغمبروں کے مشن کے خلاف ایک مستقل رکاوٹ بنے رہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ سے پہلے کے دور میں مشرکانہ بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ موجودہ زمانہ میں جمہوری سیاست کا اصول رائج ہے۔ سیاسی لیڈر عوامی ووٹوں کے ذریعہ اپنے لئے حکمرانی کا حق حاصل کرتے ہیں۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ اس کے برعکس یہ کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر حکومت کرتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں۔ ہم خدا کی اولاد ہیں۔ اسی نظریہ کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader