Urdu book · تعمیر انسانیت

توحید۔ انسانیت کی منزل

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کے ساتھ جدید سائنس نے دوسری بات یہ ثابت کی کہ زمین میں یا وسیع خلا میں جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب کی سب بے بس مخلوق ہیں۔ سب کی سب ایک محکم قانونِ فطرت میں بندھی ہوئی ہیں۔ انھیں کسی بھی درجہ میں کوئی ذاتی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اور بات ثابت ہو گئی جو عقیدہ شرک کے سراسر خلاف اور عقیدہ توحید کے سراسر موافق ہے۔ وہ یہ کہ ساری کائنات اپنے تمام مختلف اجزا کے ساتھ ایک ہی قانونِ فطرت کے تحت چل رہی ہے جس کو سائنس داں اپنی زبان میں واحد ڈوری (single string) سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خود علمِ انسانی کی دریافتوں کے مطابق کائنات کا صرف ایک خدا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی معبود۔ شرک کی اصل توہماتی طرزِ فکر (superstitious thinking) میں ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیقات نے قدیم زمانہ کے توہمات (superstitions) کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اس طرح شرک کی جڑیں موجودہ زمانہ میں خالص علمی اعتبار سے ختم ہو گئیں۔ اب کوئی سائنٹفک ذہن (scientific mind) شرک کو بطور حقیقت ماننے کے لئے تیار نہیں۔ تاہم ابھی تک شرک کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ پہلے زمانہ میں انسان یہ عقیدہ قائم کئے ہوئے تھا کہ فلاں فلاں دیوی دیوتا ہیں جو ہوائیں چلاتے ہیں، جو بارش برساتے ہیں، جو پُر اسرار طور پر ان واقعات کے پیچھے کام کر رہے ہیں جن کو ہم صبح و شام دیکھتے ہیں۔ مگر اب سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب واقعات معلوم فطری قوانین (laws of nature) کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ وہ کسی پُر اسرار دیوی یا دیوتا کا کرشمہ نہیں۔ اس طرح قدیم طرز کے شرک کا اب بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایک جاہل اور بے خبر شخص نے جب پہلی بار ایک کار کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس نے سمجھا کہ یہ کوئی جادو گر ہے جو اپنے لوہے کے کمرہ کو جادو کے زور پر دوڑا رہا ہے۔ مگر ایک ماہر انجینئر اس قسم کی بات کو مضحکہ خیز سمجھے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہو گا کہ ایسا کوئی جادو واقعہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page