توحید۔ انسانیت کی منزل
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریک کو آزادانہ طور پر اور انتہائی موثر انداز میں برپا کیا جا سکتا ہے۔ دورِ جدید میں سیاسی اور بین الاقوامی فضا بھی پوری طرح اس کے موافق ہو چکی ہے۔ تمام علمی دلائل اسی کی تائید کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ آج توحید کی تحریک بلا مقابلہ کامیابی (unopposed victory) حاصل کرنے کی پوزیشن میں پہنچ گئی ہے ۔ اس کے راستہ میں اب کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ حائل نہیں اب ضرورت ہے کہ اہل توحید نے عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھیں اور دنیا کی تمام قوموں کو نئی طاقت کے ساتھ توحید کی حیات بخش حقیقت سے آشنا کر دیں۔ قدیم زمانہ میں انسانی زندگی میں اور انسانی سماج میں بے شمار برائیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ ان کے نتیجہ میں انسان اپنی فطری عظمت سے محروم ہو گیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ اٹھائی ہوئی تحریک توحید تھی جس نے دنیا کو اس المناک دور سے نکالا اور انسانیت کو حقیقی معنی میں ترقی کے دور میں داخل کیا۔ انسان پہلی بار ان سعادتوں سے ہمکنار ہوا جو خدا نے اس کے لئے مقدر کی تھیں مگر خود ساختہ توہمات کے نتیجہ میں اس نے اپنے آپ کو ان سے محروم کر رکھا تھا۔ انسانیت تاریکی کے طویل دور سے نکل کر روشنی کے نئے دور میں داخل ہو گئی۔ اب بظاہر مادی ترقیوں کے باوجود انسان دوبارہ مسائل کے اندھیروں میں گرفتار ہو گیا ہے۔ خوشنما تمدن کے اندر وہ حقیقی خوشی اور سکون سے محروم ہے۔ انسان کی فطری عظمت دوبارہ پستیوں کے نئے گڈھ میں جاگری ہے۔ اب ضرورت ہے کہ توحید کی دعوت کو از سر نو نئی طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ ایک طرف اس کے نئے دلائل اور نئے اسلوب کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ قابلِ قبول بنایا جائے اور دوسری طرف جدید ذرائع اشاعت کو استعمال کر کے اس کو ساری دنیا میں پھیلا دیا جائے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے جس کو پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی ایک تاریخی گوئی میں اس طرح فرمایا تھا کہ --- ایک وقت آئے گا جب کہ خدا کے دین کا پیغام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔ کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہ بچے گا جس کے اندر توحید کا کلمہ نہ پہنچ نہ گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader