مذہب امید
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے پر مطمئن رہے اور نہ ملے ہوئے کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کرے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا میں ہر ایک کو وہی ملتا ہے جو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ جس آدمی کو کم ملا وہ بھی خدا کے حکم سے تھا اور جس کو زیادہ ملا وہ بھی خدا کے حکم سے تھا۔ یہ عقیدہ آدمی کو ابدی سکون عطا کرتا ہے۔ وہ اس یقین میں جینے لگتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا وہ اتفاقاً نہیں تھا بلکہ یہ عین وہی ہے جو خود اس کی بہتری کے لئے اس کو ملنا چاہئے تھا۔ اگر ایک شخص کو بظاہر دنیا کا رزق کم ملا ہے تو یہ اس کے حق میں خدا کی ایک عظیم مہربانی ہے۔ اس طرح خدا چاہتا ہے کہ وہ شخص ظاہری ساز و سامان میں زیادہ مصروف نہ ہو سکے۔ وہ خارجی ظواهر سے بلند ہو کر معنوی حقائق میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہو۔ مادی چیزوں میں کم پر راضی ہونے کا نام قناعت ہے۔ اسی طرح مادی چیزوں میں زیادہ کا طالب بننے کا نام حرص ہے۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی قناعت کی روش پر قائم ہو اس پر ہر قسم کے علمی دروازے کھلتے چلے جائیں گے، اس پر معرفت اور روحانیت کی بارشیں ہوں گی۔ اس کے بر عکس جو آدمی حرص و ہوس کا طریقہ اختیار کرے وہ ظواہر کی محدود دنیا میں گم ہو کر رہ جائے گا۔ حقائق کی وسیع تر دنیا اس کی دسترس سے باہر ہوگی۔ وہ ایک خوشنما حیوان کی طرح زندگی گزارے گا، وہ انسانیت کا اعلیٰ درجہ پانے سے محروم رہے گا۔ کم پر قناعت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ جو آدمی مادی چیزوں میں کم پر راضی ہو جائے وہ گویا غیر مادی چیزوں میں اپنے آپ کو زیادہ کا مستحق بنا رہا ہے۔ وہ غیر اہم چیزوں میں پیچھے کی سیٹ کو قبول کر کے زیادہ اہم چیزوں میں آگے کی سیٹ پر اپنے لئے زیادہ بہتر جگہ حاصل کر رہا ہے۔ تکلیف میں راحت پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا اذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها - الا كفر الله بها من خطاياه.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader