مذہب امید
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا یہ تصور انسان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، وہ تکلیف کے احساس کو بھی راحت کے احساس میں بدل دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کبھی گھبراہٹ میں مبتلا نہیں ہوتا۔ ہر مصیبت کے موقع پر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت نے میری زندگی کی کسی غلطی کو میرے اعمال کے ریکارڈ سے مٹا دیا۔ مجھے قصوروار انسان کے مقام سے اٹھا کر بے قصور انسان کی صف میں پہونچا دیا۔ توکل اور اعتماد اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو توکل علی اللہ کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر حال میں اللہ کے اوپر بھروسہ رکھنا، اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہ ہونا، قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ "اور تم اللہ پر توکل کرو، اور اللہ کار ساز ہونے کے لئے کافی ہے (الاحزاب (۳) دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تم اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدہ (۲۳) اسی طرح قرآن میں اہل حق کی زبان سے کہا گیا ہے کہ "اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے"۔ (ابراھیم (۱۲) اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اس طرح کہو کہ "اللہ میرے لئے کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (الزمر (۳۸) توکل کا عقیدہ امید اور یقین کا لازوال سر چشمہ ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ جہاں تمہاری کوششوں کی حد آجائے وہاں ایک اور ہستی تمہاری مدد کے لئے موجود رہتی ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ جہاں معلوم اسباب ختم ہو گئے ہوں وہاں نامعلوم اسباب کا کبھی نہ ختم ہونے والا ذریعہ تمہارا ساتھ دینے کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں تم اپنی طاقت سے کامیاب نہیں ہو سکتے وہاں تمہارا خدا اپنی لامحدود طاقتوں کے ساتھ تم کو کامیاب بنانے کے لئے موجود ہے۔ توکل کا یہ عقیدہ اہلِ ایمان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ بظاہر حوصلہ شکن حالات میں بھی اس کا حوصلہ نہ ٹوٹے۔ بظاہر ناامیدی کے طوفان میں بھی وہ اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader