Urdu book · تعمیر انسانیت

مذہب امید

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا انسان اپنے اس مزاج کی بنا پر ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت یا اپنے وجود کا کوئی حصہ بے فائدہ طور پر ضائع نہ ہونے دے۔ وہ اس المناک انجام سے محفوظ رہے کہ ایک ناخوشگوار صورت حال سے متاثر ہو کر وہ اپنے آپ کو ہلاک کرلے، حالانکہ آئندہ آنے والے حالات اس کے لئے ایسی خبریں لائیں جو عین اس کے حق میں ہوں اور مزید اضافے کے ساتھ ٹھیک وہی ہو جس کو وہ اپنے لئے چاہ رہا تھا۔ کمزور اور طاقتور حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص کے یہاں دو بھائی تھے۔ ایک بھائی گھر کا کاروبار سنبھالتا تھا اور دوسرا بھائی دینی کاموں میں مصروف رہتا تھا۔ پہلے بھائی نے رسول اللہ ﷺ سے دوسرے بھائی کی شکایت کی اور کہا کہ وہ گھر کے کاروبار میں حصہ نہیں لیتے۔ آپ نے فرمایا کہ شاید تم کو اُسی کی وجہ سے روزی مل رہی ہو۔ (لعلك ترزق به اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: إنما تنصرون و ترزقون بضعفانکم (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۰۵۶۔ ۱۰۷) یعنی تم کو جو مدد ملتی ہے یا جو رزق ملتا ہے وہ صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے ملتا ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر گھر میں اور ہر سماج میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو بظاہر کمزور ہوتے ہیں، ترقیاتی سرگرمیوں میں بظاہر ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ ایسے افراد عام طور پر گھر میں بھی اور سماج میں بھی حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو اجتماعی زندگی میں عزت کا مقام نہیں ملتا۔ ایسے لوگ خود بھی مایوسی کا شکار رہتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک بوجھ سمجھ لیتے ہیں نہ کہ اپنے حق میں کوئی مفید اثاثہ۔ ایسے حالات میں مذکورہ اسلامی تعلیم ایک عظیم سماجی نعمت ہے۔ یہ تعلیم بتاتی ہے کہ خدائی منصوبے کے مطابق، سماج کی ترقیاتی سرگرمیوں میں ان کمزوروں کا بھی ایک عظیم حصہ ہے۔ کسی سماج میں ان کا وجود خدا کی رحمتوں کو اس کی طرف مائل کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بظاہر نہ کرنے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page